اسے چاہت ہی نہیں ملنے کی پھر کیوں تڑپتا ہے
منتخب غزلیات
کلاسیکی غزل کے باوقار سانچے میں ڈھلے ہوئے اشعار، جن میں سوز و گداز، احساسِ ذات، اور سرگودھا کے زمینی و فکری استعارے نمایاں ہیں۔
بہت تڑپے ہیں اس کی یادوں میں کچھ دن بسیرا کرے
ان کی پہلی پہلی مسکراہٹیں
کبھی ان کے آشیانے سے ٹکرا کر یوں صدا آتی ہے
کس سطح پر ہے حسنِ ظن تیرا اے ستم گر
پارہ قلب تجھ سے نہیں عشق کہ محض تو حسین ہے
شب و روز ہمیں تڑپاتا ہے کیا تو خود بشر نہیں
ہمارا تو عدو بھی علی ہمارا صنم ہے،
کیا ہم سے واقف ہو اے زمانے والو
بڑی کاٹی ہیں ہجر میں شب ہم نے
ہم نشئی ہوئے مے خور مے خانے میں
تو ہے تو سہی اپنے ظاہر و باطن سے پیکرِ حسن و جمیل
اک محبوب کی خاطر ہم غزل لکھ رہے ہیں
دیارِ مطلب پرستی سے علم ہوا ہر مسکراہٹ علی مسکان نہیں ہوتی
قلب سے کب صدا نکلی کہ تو سمجھتا خود کو کیا ہے
قلب میں جو بات ہے اب اسے نہ راز رہنے دو
ہماری ذات، صفات، اور عادات پوچھتے ہو
تجھے یاد ہے کہ ہم جب آئے تھے
تیری غرض جو میری غرض ہے
مل کر پچھتاتا ہوں میں آج بھی اس غم ساز سے
ہو گیا آغاز اس کے ستموں کا جس پر تھا بہت بھرم
دھیرے دھیرے جب تیرے دیے زخم بھرتے ہیں
پارہِ قلب یہ تو سمجھو ہم تیرے بیمار ہیں
کتنے بے باک ہیں آپ یہ جواز کوئی جواز نہیں
ہو جائیں خدارا ہم دنیا کی ہر الفت سے بے نیاز
اے ستم گر تو ستم کرکے سب لمحے بھول جاتا ہے
تمہاری راہوں کا تکلف مجھے تیرا ہونے نہیں دیتا
ہم نے تو کی ہر اس سے جو ملا ہمیں گلزار میں
کچھ خود کو سمجھتے ہیں ہوشیار بہت
تمہارا اپنی منزل کا سفر یوں ہی بدلتے رہنا
لوگو پوچھتے ہیں ہم سے اکثر محبتوں کے قصے
اب کہتی ہے اک جان پھر دنیا سے کنارا کرلو
ہم وہ حسرت ہیں جو کسی کی پوری نہیں ہوتی
وہ جب مسکراتے ہیں تو خوشیاں چھن جاتی ہیں زمانے کی
وہ کون خوش نصیب ہوں گے جس کی قسمت میں ہم ہوں گے
مجھے سمجھا ہے زمانے نے زمانے کی طرح
محبت ہو جائے تو لطف اٹھا لو محبوب کے مظہر میں
