پارہ قلب تجھ سے نہیں عشق کہ محض تو حسین ہے
ورنہ خالق کی اہل حسن سے تو بھری پڑی یہ زمین ہے

اردو شاعری اور فکری محفوظات
پارہ قلب تجھ سے نہیں عشق کہ محض تو حسین ہے
ورنہ خالق کی اہل حسن سے تو بھری پڑی یہ زمین ہے
لے آئیں ہزاروں اگر چاہیں احباب کی فہرست میں
اس قلب کا بنایا ہم نے بس تجھے ہی مالک مکین ہے
ویسے ہیں ہر رنگ و چمک کے سنگریزے اس جہاں میں
اس جہاں میں مگر اے پارہ قلب تو منفرد نگینہ ہے
تجھے چاہیے تھا نہ حبیب ایسا ہو جو ہمسفرِ دارین
یہ علم ہے تجھے قبر و حشر میں ہمارا ایک ہم نشین ہے
درست روٹھا ہے اپنے حب دار سے نہ بلا عذر و بلا جواز
کیا علم ہے تجھے ہو چکا یہ معاملہ کس قدر سنگین ہے
مرضِ نفاق میں مبتلا دیکھے ہیں ہزاروں چہرے روشن
نہیں ظاہر ہی پارہ قلب محض تیرا باطن بھی رنگین ہے
سلطان ہیں اس دار میں ویسے تو ہم بھی اپنی انا کے
لیکن علی آپ کی حب میں گرفتار ہمیشہ کمی کمین ہے

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ