ہم وہ حسرت ہیں جو کسی کی پوری نہیں ہوتی
مگر وہ وہ خواہش ہے جو اتنی ضروری نہیں ہوتی

اردو شاعری اور فکری محفوظات
ہم وہ حسرت ہیں جو کسی کی پوری نہیں ہوتی
مگر وہ وہ خواہش ہے جو اتنی ضروری نہیں ہوتی
حسرتیں حسرتیں رہ جاتی ہیں کبھی آتی نہیں میسر
کبھی آ بھی جائیں تو حب دار محبوب کی مجبوری نہیں ہوتی
ہمارا ہر قول رکھتا ہے اپنی داستاں کا مفہوم
سن ہم وہ کہانی ہیں جو کبھی ادھوری نہیں ہوتی
ہمارا تنہا خاموش اور عاجز رہنا انہیں لگتا ہے تکبر
کم علم ہیں نہیں جانتے خودداری مغروری نہیں ہوتی
کیوں نہیں ہوتا پشیماں ہاتھ پھیلاتے ہوئے اے ابنِ آدم
جن ہاتھوں کو ہے پھیلاتا کیا ان سے مزدوری نہیں ہوتی
ہوتا تو ہے زمانے میں تذکرہ یزید کا مگر لعینوں میں
یہ قصہ سبق آموز ہے زمانے بھر کی ذلت مشہوری نہیں ہوتی
اٹک جاتی ہیں دعائیں رستے میں نہیں پہنچ سکتی آسمانوں تک
جب تک مدنی کی بارگاہ میں ان کے درود کی منظوری نہیں ہوتی

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ