دھیرے دھیرے جب تیرے دیے زخم بھرتے ہیں
اک ہوا کا جھونکا آنے سے سوکھے پتے جھڑتے ہیں

اردو شاعری اور فکری محفوظات
دھیرے دھیرے جب تیرے دیے زخم بھرتے ہیں
اک ہوا کا جھونکا آنے سے سوکھے پتے جھڑتے ہیں
یہ بھی معلوم ہے کہ وہ کتنا ہے بے قدر و لاپرواہ
مانتا نہیں دلِ ناداں ہم پھر بھی اعتبار کرتے ہیں
حال ہی میں جس نے پھول مہکتا پکڑ کے توڑا تھا
سمجھنے سے قاصر ہوں ہم ابھی اس پہ مرتے ہیں
دل چاہتا ہے ٹوٹ کر پھر اس کا دامن تھام لوں
نہ کبھی اپنے شجر سے دوبارہ ملنے سے ڈرتے ہیں
وہ وہ ہے کہ جس نے ہمیں رلایا ہجر میں
ہم ہم ہیں کہ ان کے لیے لوگوں سے لڑتے ہیں
ہر طرف سے جس شخص نے رابطے منقطع کر دیے
رات بھر جاگ کر اس کے میسج کا انتظار کرتے ہیں
متجسس ہوں محب آپ ہیں یا وہ حب دار آپ کا
اور اتنی ناراضگیوں کے بعد تعلق کیسے بڑھتے ہیں
ہم ساقی و مے خور کے خادم ہیں مے خانہ میں
عثمان پیتے ہیں اور حسن جام بھرتے ہیں

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ