مطلعشعرِ غزل
بہت تڑپے ہیں اس کی یادوں میں کچھ دن بسیرا کرے
نکل جائیں گے اس کی شاموں سے یک دم سویرا کرکے

اردو شاعری اور فکری محفوظات
بہت تڑپے ہیں اس کی یادوں میں کچھ دن بسیرا کرے
نکل جائیں گے اس کی شاموں سے یک دم سویرا کرکے
جو بجھ گیا میرے قلب پر عروج پر چمکتے ہوئے سورج کو
چھوڑ گیا تنہا وہ شخص ہماری زندگی میں اندھیرا کرکے
ایک ہو مرض تو طلب کریں اپنے لیے کسی طبیب کو
ہمیں ڈبو گیا وہ غموں کے بحر میں بحیرہ بحیرہ کرکے
شب و روز ہمیں تڑپا کر بے حس نہ ہوا کبھی پشیماں
قلب و روح سے ابھی تک روتا اس کو میرا میرا کرکے

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ