مطلعشعرِ غزل
ہماری ذات، صفات، اور عادات پوچھتے ہو
مجھے جانتے ہو پھر بھی اوقات پوچھتے ہو

اردو شاعری اور فکری محفوظات
ہماری ذات، صفات، اور عادات پوچھتے ہو
مجھے جانتے ہو پھر بھی اوقات پوچھتے ہو
ہے معلوم کس تاریخ، وقت، شام کو ملے تھے ہم
آپ انجان بن کر پھر کیوں وہ رات پوچھتے ہو
آندھی تھی، طوفان تھا یا تاروں بھری رات تھی
بھیگ گئے تھے آپ پھر بھی برسات پوچھتے ہو
دل توڑتے ہو نظر انداز کرتے ہو وقت بھی نہیں دیتے
پھر بھی ہم سے روٹھ جانے کی وجوہات پوچھتے ہو
آشنا جو ہو صنم تم گزرے ہوئے ماضی سے
آگے کا سوچو کیوں گزرے ہوئے لمحات پوچھتے ہو

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ