مطلعشعرِ غزل
پارہِ قلب یہ تو سمجھو ہم تیرے بیمار ہیں
تیرے ہیں محب، تیری حب میں گرفتار ہیں

اردو شاعری اور فکری محفوظات
پارہِ قلب یہ تو سمجھو ہم تیرے بیمار ہیں
تیرے ہیں محب، تیری حب میں گرفتار ہیں
ہر پل میری آنکھوں پر غالب ہے تیرا نقش
طلبِ حبیب میں سوتے اور منتظرِ دیدار ہیں
وہ جن سے بات کرکے بھول جاتے تھے سارے غم
کہتے ہیں خفا، نہیں پر حقیقت میں وہ بیزار ہیں
تنبیہ ہوئی طویل تعلق جو چاہو تو نہ کبھی کرنا ظاہر
بالآخر بنے جو رکاوٹ یہ ظالم محبت کے اظہار ہیں
ہوگی تیرے حب داروں کی عثمان فہرست بے شمار
پر تیرے حب داروں کی فہرست میں ہم منفرد شمار ہیں

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ