مطلعشعرِ غزل
اسے چاہت ہی نہیں ملنے کی پھر کیوں تڑپتا ہے
پوچھ نہ دل سے کہ پھر بھی یہ کیوں دھڑکتا ہے

اردو شاعری اور فکری محفوظات
اسے چاہت ہی نہیں ملنے کی پھر کیوں تڑپتا ہے
پوچھ نہ دل سے کہ پھر بھی یہ کیوں دھڑکتا ہے
جب وہ آتا ہے سامنے تو یقین مانو پارہِ قلب
بجھتی چنگاڑی کو ہوا ملنے پر شعلہ بھڑکتا ہے
ہم نے ذلت بھی اٹھائی رسوائی بھی مقدر ہوئی
پھر بھی آئے روز پتہ نہیں یہ عشق کیوں بڑھتا ہے

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ