مطلعشعرِ غزل
کبھی ان کے آشیانے سے ٹکرا کر یوں صدا آتی ہے
ان کی آمد میرے خوابوں میں حقیقت بن کر دعا آتی ہے

اردو شاعری اور فکری محفوظات
کبھی ان کے آشیانے سے ٹکرا کر یوں صدا آتی ہے
ان کی آمد میرے خوابوں میں حقیقت بن کر دعا آتی ہے
ان کے تبسم سے دل کی کھلتی ہیں کلیاں
ان کے رخسار سے ہوتا ہے یہاں تماشا برپا
لیکن ان کی بے رخی کر عاشقوں کو تباہ آتی ہے
ہو جاتے ہیں لوگ مبتلا بیماریِ شب بیداری سے
ٹکرا کر جس جس سے بھی ان کی قاتل نگاہ آتی ہے
بہترین نوازا ہے رب نے اسے اخلاق کے حسن سے
لذتِ گلاب شیریں جیسی مگر کر سب فنا آتی

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ