CANON-GHAZAL-12 • اشاعتِ عام
غزلیںسرگودھا ایڈیشن

غزل نمبر: 12

شاعر: محمد علی • ڈھلوں سرگودھیاCatalogue Reference: CANON-GHAZAL-12
مطلعشعرِ غزل

​اے ستم گر تو ستم کرکے سب لمحے بھول جاتا ہے

چھپا کر اپنے سب کانٹے بن یک دم پھول جاتا ہے

شعر 2شعرِ غزل

تیری خواہش جو تیرے دل میں پنہاں ہوکر رہتی ہے

مجھ پر فرضِ عین اور زندگی کا بن اصول جاتا ہے

شعر 3شعرِ غزل

یہ کتا خوش نصیب ہے جس کو تیرا در ہی میسر ہے

تیرے قدموں میں لیٹے جوتے کی بن دھول جاتا ہے

شعر 4شعرِ غزل

سینے سے نہیں ممکن معانقہ ہے معلوم مجھے لیکن

میرا چیخنا اور چلانا کیوں بالکل فضول جاتا ہے

مقطعشعرِ غزل

ہوں میں فاعل اور میرا یہ فعل ہے قابلِ رحم لیکن

مگر کیوں ستم گر اور بے رحم تو بن مفعول جاتا ہے

محمد علی (ڈھلوں سرگودھیا)

محمد علی (ڈھلوں)

سرگودھا، پنجاب
شاعر، قانونی محقق و سرگودھا کے معاصر ادبی مکتبہ کے روشن نمائندہ قلم کار۔
CRITICAL APPRECIATION & METRICS

فکری تجزیہ اور بحر و اوزان کی لطافت

CATALOG REFCANON-GHAZAL-12
EDITION TYPEاشاعتِ عام
CURATED CONNECTIONS

ہم آہنگ کلام و منتخب اشعار

کتب خانہ دیکھیں
متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ