مطلعشعرِ غزل
اے ستم گر تو ستم کرکے سب لمحے بھول جاتا ہے
چھپا کر اپنے سب کانٹے بن یک دم پھول جاتا ہے

اردو شاعری اور فکری محفوظات
اے ستم گر تو ستم کرکے سب لمحے بھول جاتا ہے
چھپا کر اپنے سب کانٹے بن یک دم پھول جاتا ہے
تیری خواہش جو تیرے دل میں پنہاں ہوکر رہتی ہے
مجھ پر فرضِ عین اور زندگی کا بن اصول جاتا ہے
یہ کتا خوش نصیب ہے جس کو تیرا در ہی میسر ہے
تیرے قدموں میں لیٹے جوتے کی بن دھول جاتا ہے
سینے سے نہیں ممکن معانقہ ہے معلوم مجھے لیکن
میرا چیخنا اور چلانا کیوں بالکل فضول جاتا ہے
ہوں میں فاعل اور میرا یہ فعل ہے قابلِ رحم لیکن
مگر کیوں ستم گر اور بے رحم تو بن مفعول جاتا ہے

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ