مطلعشعرِ غزل
ان کی پہلی پہلی مسکراہٹیں
ہمیں اکسانے والی مسکراہٹیں

اردو شاعری اور فکری محفوظات
ان کی پہلی پہلی مسکراہٹیں
ہمیں اکسانے والی مسکراہٹیں
کیسے بھول جاؤں وہ عادتیں
بازو سکیڑ کر لیتے تھے کراہٹیں
بیاں چاہوں کرنا پر کر نہ سکوں
ہیں مفصل ان کی وضاحتیں
نہ دیکھنے میں کوئی آڑھ تھی
نہ لینی پڑتی تھیں اجازتیں
تھا غم میں ہوتا اگر میں مبتلا
کسے کوئی فرق پڑتا ہے کیا بھلا
خود ہی سے ہیں جتنے بھی ہیں
نہیں ان کے بارے میں کوئی گلہ
سرعام ملتے ہیں ملیں جب بھی
نہیں محسوس کرتے گھبراہٹیں

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ