CANON-GHAZAL-20 • اشاعتِ عام
غزلیںسرگودھا ایڈیشن

غزل نمبر :20

شاعر: محمد علی • ڈھلوں سرگودھیاCatalogue Reference: CANON-GHAZAL-20
مطلعشعرِ غزل

​تجھے یاد ہے کہ ہم جب آئے تھے

اور ہم نے کیا گل کھلائے تھے

شعر 2شعرِ غزل

آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر

جب دل سے دل ملائے تھے

شعر 3شعرِ غزل

اسی دن تھا کیا اظہار ہم نے

کچھ محبت کے اصول بتائے تھے

شعر 4شعرِ غزل

اپنی آنکھوں سے جام پلا کر

جو تو نے احساس اپنے دلائے تھے

شعر 5شعرِ غزل

علی کبھی نہ چھوڑ کر جانا مجھے

چاہے جو بھی کہے زمانہ تجھے

شعر 6شعرِ غزل

میری ہر آرزو کی ہے تو جستجو

نہ کبھی کوئی لگانا بہانہ مجھے

شعر 7شعرِ غزل

میری طرح ہی تو مجھ پہ مرنا

نہ دل توڑ کر کبھی ستانا مجھے

شعر 8شعرِ غزل

تجھے میں چاہوں تو چاہے مجھے

میری پسند ہی پسند آئے تجھے

مقطعشعرِ غزل

اور جس دیا محبت کو ہم جلائیں

کبھی دعا ہے علی وہ نہ بجھے

محمد علی (ڈھلوں سرگودھیا)

محمد علی (ڈھلوں)

سرگودھا، پنجاب
شاعر، قانونی محقق و سرگودھا کے معاصر ادبی مکتبہ کے روشن نمائندہ قلم کار۔
CRITICAL APPRECIATION & METRICS

فکری تجزیہ اور بحر و اوزان کی لطافت

CATALOG REFCANON-GHAZAL-20
EDITION TYPEاشاعتِ عام
CURATED CONNECTIONS

ہم آہنگ کلام و منتخب اشعار

کتب خانہ دیکھیں
متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ