مطلعشعرِ غزل
تجھے یاد ہے کہ ہم جب آئے تھے
اور ہم نے کیا گل کھلائے تھے

اردو شاعری اور فکری محفوظات
تجھے یاد ہے کہ ہم جب آئے تھے
اور ہم نے کیا گل کھلائے تھے
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر
جب دل سے دل ملائے تھے
اسی دن تھا کیا اظہار ہم نے
کچھ محبت کے اصول بتائے تھے
اپنی آنکھوں سے جام پلا کر
جو تو نے احساس اپنے دلائے تھے
علی کبھی نہ چھوڑ کر جانا مجھے
چاہے جو بھی کہے زمانہ تجھے
میری ہر آرزو کی ہے تو جستجو
نہ کبھی کوئی لگانا بہانہ مجھے
میری طرح ہی تو مجھ پہ مرنا
نہ دل توڑ کر کبھی ستانا مجھے
تجھے میں چاہوں تو چاہے مجھے
میری پسند ہی پسند آئے تجھے
اور جس دیا محبت کو ہم جلائیں
کبھی دعا ہے علی وہ نہ بجھے

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ