مطلعشعرِ غزل
ہمارا تو عدو بھی علی ہمارا صنم ہے،
حکمِ عدا پر بھی سرِ تسلیم خم ہے

اردو شاعری اور فکری محفوظات
ہمارا تو عدو بھی علی ہمارا صنم ہے،
حکمِ عدا پر بھی سرِ تسلیم خم ہے
جو تھا کبھی ان سے نہیں رہا باقی، یارو میرا بھی رہا نہ اب وہ عزم ہے
یوں لگتا ہے کہ زمانہ ہم سے خفا ہے، علی بھی ہو گیا شاید ان سے برہم ہے
مزید لفظوں کا نہ اب کروں گا ضیا، تم جیسوں کے سامنے میری قسم ہے

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ