مطلعشعرِ غزل
بڑی کاٹی ہیں ہجر میں شب ہم نے
انہیں چھوڑا پھر بھی کب ہم نے

اردو شاعری اور فکری محفوظات
بڑی کاٹی ہیں ہجر میں شب ہم نے
انہیں چھوڑا پھر بھی کب ہم نے
کبھی آ جائیں میسر وہ پھر ہم کو
ایسے طریقے بھی اپنائے سب ہم نے
آخرِ کار پی کر خونِ جگر کے گھونٹ
اذیت کاٹ کر سی لیے لب ہم نے
رسول و خدا کے علاوہ نہ ہو مرکزِ حب
مرکزِ حب اوروں کو بنا لیا رب ہم نے
ہر ساعت میسر رہنے سے وہ ہو گئے بیزار
ان سے رابطے قلیل کر لیے اب ہم نے

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ