مطلعشعرِ غزل
تیری غرض جو میری غرض ہے
تیرا درد جو وہ بھی میرا درد ہے

اردو شاعری اور فکری محفوظات
تیری غرض جو میری غرض ہے
تیرا درد جو وہ بھی میرا درد ہے
اگر یہ لفظ نکلے منہ سے کیوں تیرے
ہوں میں جسے سوچتی وہ تو فرد ہے
نہ کوئی حل ڈھونڈ سکا جس درد کا
ہاں شاید وہ تو ہی مرض ہے
اب مزید نہ تو ہمیں درد دے
یہ اک غمگسار کی عرض ہے
جو وفا کے بدلے وفا نہ دے
میرے آئنوں میں وہ نامرد ہے

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ