مطلعشعرِ غزل
وہ کون خوش نصیب ہوں گے جس کی قسمت میں ہم ہوں گے
افسوس پڑ جائے گی عادت اس کی پھر وہی قسمت میں غم ہوں گے

اردو شاعری اور فکری محفوظات
وہ کون خوش نصیب ہوں گے جس کی قسمت میں ہم ہوں گے
افسوس پڑ جائے گی عادت اس کی پھر وہی قسمت میں غم ہوں گے
ہو جائے گی پھر سے زندہ رسمِ خفا
کبھی وہ ہم سے خفا ہوں گے کبھی ہم ان سے برہم ہوں گے
سوچا تھا ہوا ختم جفا کا دور کسی کو بھول جانے سے
ہائے ہماری زندگی میں کسی کے آنے سے پھر ہم پر ستم ہوں گے
جو وفا کرے گا ہم سے محبت کی آڑ میں
حیرت انگیز ہے مستقبل کیا ایسے باوفا صنم ہوں گے
بھر گئے تھے زمانے کے لگائے گہرے زخم تنہائیوں کی مرہم سے
ہائے انہیں پھر کون کریدے گا کیا پھر نئے زخم ہوں گے

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ