CANON-GHAZAL-22 • اشاعتِ عام
غزلیںسرگودھا ایڈیشن

غزل نمبر : 22

شاعر: محمد علی • ڈھلوں سرگودھیاCatalogue Reference: CANON-GHAZAL-22
مطلعشعرِ غزل

​قلب میں جو بات ہے اب اسے نہ راز رہنے دو

عرصہ سے ہیں جو چھپا بیٹھے آج تو کہنے دو

شعر 2شعرِ غزل

جو درد دیا تھا تم نے ہمیں محبت کی آڑ میں

نہ رحم کھاؤ ہم پر اب ہمیں اکیلے سہنے دو

مقطعشعرِ غزل

نہ پونچھو آنسو اب اپنے ہاتھوں سے میرے

تو نے نکالے ہیں صنم تو اب مکمل بہنے دو

محمد علی (ڈھلوں سرگودھیا)

محمد علی (ڈھلوں)

سرگودھا، پنجاب
شاعر، قانونی محقق و سرگودھا کے معاصر ادبی مکتبہ کے روشن نمائندہ قلم کار۔
CRITICAL APPRECIATION & METRICS

فکری تجزیہ اور بحر و اوزان کی لطافت

CATALOG REFCANON-GHAZAL-22
EDITION TYPEاشاعتِ عام
CURATED CONNECTIONS

ہم آہنگ کلام و منتخب اشعار

کتب خانہ دیکھیں
متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ