CANON-GHAZAL-31 • اشاعتِ عام
غزلیںسرگودھا ایڈیشن

غزل نمبر :30

شاعر: محمد علی • ڈھلوں سرگودھیاCatalogue Reference: CANON-GHAZAL-31
مطلعشعرِ غزل

​شب و روز ہمیں تڑپاتا ہے کیا تو خود بشر نہیں

اس قدر بے حسی کیا تجھے اعتقادِ حشر نہیں

شعر 2شعرِ غزل

ہم مستغرق ہیں کسی کے تخیل میں ان دنوں

کیا خبر لیں ہماری جنہیں خود کی خبر نہیں

شعر 3شعرِ غزل

عرصہ دراز بعد جب کہیں خواہش کریں کلام کی

کہتے ہیں بے رخی میں تمہیں بالکل صبر نہیں

شعر 4شعرِ غزل

ہم نے اک زندگی کا حصہ صنم تیرے نام کردیا

کہتے ہیں محض دیکھ لو کوئی اور اجر نہیں

شعر 5شعرِ غزل

محب ہو تو تڑپو میں بھی تڑپتا ہوں کسی کے لیے

میں سہتا ہوں جو اس کی نسبت یہ کوئی جبر نہیں

شعر 6شعرِ غزل

ہم اگر کر ہی لیں ٹوٹ کر علی ان سے کوئی گلہ

ہوجاؤ ساکن! کہتے ہیں میرے سامنے زیر زبر نہیں

شعر 7شعرِ غزل

اگر چاہتے ہو رکھنا رکھو تعلق انہیں اذیتوں کے بیچ

عاشق کو ہم تڑپائیں گے سنیں گے کوئی اگر مگر نہیں

شعر 8شعرِ غزل

نہیں ملتے ڈھونڈنے سے بھی مخلص محب اس دار سے

کہتے ہیں تجھے کھونے کا ہمیں کوئی خوف و حضر نہیں

شعر 9شعرِ غزل

کر دیتے ہیں عین ساعت پر وہ ہم کو آنے سے منع

وصل ہو جس سے ممکن ہم نے کیا کوئی ایسا سفر نہیں

مقطعشعرِ غزل

سیکھے تو ہم نے بھی ہیں علی تڑپانے کے سب ہنر

مگر تصور میں بھی دے سکتے ہم انہیں کوئی ضرر نہیں

محمد علی (ڈھلوں سرگودھیا)

محمد علی (ڈھلوں)

سرگودھا، پنجاب
شاعر، قانونی محقق و سرگودھا کے معاصر ادبی مکتبہ کے روشن نمائندہ قلم کار۔
CRITICAL APPRECIATION & METRICS

فکری تجزیہ اور بحر و اوزان کی لطافت

CATALOG REFCANON-GHAZAL-31
EDITION TYPEاشاعتِ عام
CURATED CONNECTIONS

ہم آہنگ کلام و منتخب اشعار

کتب خانہ دیکھیں
متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ