CANON-GHAZAL-09 • اشاعتِ عام
غزلیںسرگودھا ایڈیشن

غزل نمبر: 9

شاعر: محمد علی • ڈھلوں سرگودھیاCatalogue Reference: CANON-GHAZAL-09
مطلعشعرِ غزل

کچھ خود کو سمجھتے ہیں ہوشیار بہت

ہم نے دیکھے ہیں ناکام ہوتے ہونہار بہت

شعر 2شعرِ غزل

میری منزل کا تعین ہے میرے مقصد کی بدولت

ورنہ ان رستوں پہ چلنا ہے دشوار بہت

شعر 3شعرِ غزل

نہیں سنتا کوئی غم ہم غم کے ماروں کے

سرمایہ داروں کے ہیں یہاں غمخوار بہت

شعر 4شعرِ غزل

نہیں دیکھتے محنت غریبوں کی یہ ظالم

ایسے بیٹھے ہیں عہدوں پر عہدے دار بہت

شعر 5شعرِ غزل

ہم وہ مجاہد ہیں جو لے کر چلتے ہیں ساتھ قافلوں کو

یہی خطا ہے ہم میں خطا کار ہیں بہت

شعر 6شعرِ غزل

بہت دکھ ہوا سن کر سالوں کی محنت کا نتیجہ

یہی خامی ہے ہم میں ورنہ تابعدار ہیں بہت

شعر 7شعرِ غزل

یہیں نہیں کمی محض عدل پسندوں کی علی

یہاں عدالتوں میں بیٹھے ہیں خونخوار بہت

مقطعشعرِ غزل

جہاں دکھتے نہ ہوں کبھی واضح مظلوموں کے حال

محبِ دولت وہاں دکھتے ہیں صاحبِ اسرار بہت

محمد علی (ڈھلوں سرگودھیا)

محمد علی (ڈھلوں)

سرگودھا، پنجاب
شاعر، قانونی محقق و سرگودھا کے معاصر ادبی مکتبہ کے روشن نمائندہ قلم کار۔
CRITICAL APPRECIATION & METRICS

فکری تجزیہ اور بحر و اوزان کی لطافت

CATALOG REFCANON-GHAZAL-09
EDITION TYPEاشاعتِ عام
CURATED CONNECTIONS

ہم آہنگ کلام و منتخب اشعار

کتب خانہ دیکھیں
متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ