مطلعشعرِ غزل
کچھ خود کو سمجھتے ہیں ہوشیار بہت
ہم نے دیکھے ہیں ناکام ہوتے ہونہار بہت

اردو شاعری اور فکری محفوظات
کچھ خود کو سمجھتے ہیں ہوشیار بہت
ہم نے دیکھے ہیں ناکام ہوتے ہونہار بہت
میری منزل کا تعین ہے میرے مقصد کی بدولت
ورنہ ان رستوں پہ چلنا ہے دشوار بہت
نہیں سنتا کوئی غم ہم غم کے ماروں کے
سرمایہ داروں کے ہیں یہاں غمخوار بہت
نہیں دیکھتے محنت غریبوں کی یہ ظالم
ایسے بیٹھے ہیں عہدوں پر عہدے دار بہت
ہم وہ مجاہد ہیں جو لے کر چلتے ہیں ساتھ قافلوں کو
یہی خطا ہے ہم میں خطا کار ہیں بہت
بہت دکھ ہوا سن کر سالوں کی محنت کا نتیجہ
یہی خامی ہے ہم میں ورنہ تابعدار ہیں بہت
یہیں نہیں کمی محض عدل پسندوں کی علی
یہاں عدالتوں میں بیٹھے ہیں خونخوار بہت
جہاں دکھتے نہ ہوں کبھی واضح مظلوموں کے حال
محبِ دولت وہاں دکھتے ہیں صاحبِ اسرار بہت

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ