مطلعشعرِ غزل
مل کر پچھتاتا ہوں میں آج بھی اس غم ساز سے
چاہے ہوا جو انجانے میں اس محبت کے آغاز سے

اردو شاعری اور فکری محفوظات
مل کر پچھتاتا ہوں میں آج بھی اس غم ساز سے
چاہے ہوا جو انجانے میں اس محبت کے آغاز سے
وہ شیریں تیری گفتگو، اور لہجوں کی حلاوت
محظوظ ہوتا ہوں میں تیرے پہلے کہے الفاظ سے
سنایا کرتا تھا جو کبھی ہمیں دیے اوروں کے غم
اس نے چرا لیا پہلو سے میرا قلب بھی راز سے
ہے گلہ نہ شکوہ علی اب مجھے میرے صنم سے
ہر عاشق گزرتا ہے محبت کے نشیب و فراز سے

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ