مطلعشعرِ غزل
تمہاری راہوں کا تکلف مجھے تیرا ہونے نہیں دیتا
تیرے نہ ملنے کا انتظار مجھے سونے نہیں دیتا

اردو شاعری اور فکری محفوظات
تمہاری راہوں کا تکلف مجھے تیرا ہونے نہیں دیتا
تیرے نہ ملنے کا انتظار مجھے سونے نہیں دیتا
رونا تو چاہتا ہوں تیرے غم کا تھوڑا آسرا لے کر
ہے مسکرانا تیرا ایسا جو مجھے رونے نہیں دیتا
میں وہ عیب ہوں جس سے لگ جائے اسے کر دے بدنام
تو وہ محبوب ہے جو اس عیب کو دھونے نہیں دیتا
جس شجر سے ہو پر فیض علی زمانہ سارا
اس دور میں کوئی بیج ایسا بونے نہیں دیتا

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ