CANON-NAZM-33 • اشاعتِ عام
نظمیںسرگودھا ایڈیشن

نظم نمبر. 33 (محبوب اور عیوب)

شاعر: محمد علی • ڈھلوں سرگودھیاCatalogue Reference: CANON-NAZM-33
شعر 1شعرِ غزل

​وہ لوگ بھی ہیں یہاں دعویٰ محبت میں مبتلا

جو نہیں ہیں لفظِ محبت کی گہرائی سے آشنا

شعر 2شعرِ غزل

جنہیں دکھتے نہیں عیوب اپنی ذات میں نہاں

بلا وجہ ہوئے بیٹے ہیں زمانے بھر سے وہ خفا

شعر 3شعرِ غزل

​کیا ہوتے ہیں حب دار و محبوب میں تقاضے

ہر لمحہ جو نکالیں بلا عذر دل داروں کے جنازے

شعر 4شعرِ غزل

ششدر ان سے بھی ہوں جو بکھیر بیٹھے شیرازے

منتظر رہتے ہیں تیروں کے کھول کر سب دروازے

شعر 5شعرِ غزل

​حیرت ان پر بھی ہے جو کھاتے ہیں ہر پل نئے زخم

زخم دینے والے کی صحبت سے تلاش کرتے ہیں مرہم

شعر 6شعرِ غزل

اب ان کے بھی صبر کا پیمانہ ہوا چاہتا ہے ختم

قلب رونا چاہتا ہے آنکھیں رکھتی ہیں خشک نم

شعر 7شعرِ غزل

​کرکے مقید محبوب کو حب کا نام دیتے ہیں

ہر لمحہ نازک قلب کو پھانسی سرعام دیتے ہیں

شعر 8شعرِ غزل

ہر فعل بنتا ہے باعث محبوب کی قلب شکنی کا

کر کے دل آزاریاں ہر وقت انہیں الزام دیتے ہیں

شعر 9شعرِ غزل

​کم ظرفی کی بھی حضور یہ حد نہیں

بے حس کے ہجر کاٹتے آپ واحد نہیں

شعر 10شعرِ غزل

کیا یہی ہے زندگی محب و محبوب، وفا، بے وفا

رکھتے رضائے الٰہی کے کیوں آپ مقاصد نہیں

شعر 11شعرِ غزل

​نہ رہا کرو پارہ قلب! اس کے غم میں اب مغموم

یہی نہیں محب تیرا بلکہ زمانے سارے کا ہجوم

شعر 12شعرِ غزل

ایک نسبت ہے جو رکھتی ہے حدِ ادب محکوم

ورنہ ہر ایک جانتا ہے کون ظالم ہے کون مظلوم

بند نمبر 1نظم

​وہ لوگ بھی ہیں یہاں دعویٰ محبت میں مبتلا

جو نہیں ہیں لفظِ محبت کی گہرائی سے آشنا

جنہیں دکھتے نہیں عیوب اپنی ذات میں نہاں

بلا وجہ ہوئے بیٹے ہیں زمانے بھر سے وہ خفا

بند نمبر 2نظم

​کیا ہوتے ہیں حب دار و محبوب میں تقاضے

ہر لمحہ جو نکالیں بلا عذر دل داروں کے جنازے

ششدر ان سے بھی ہوں جو بکھیر بیٹھے شیرازے

منتظر رہتے ہیں تیروں کے کھول کر سب دروازے

بند نمبر 3نظم

​حیرت ان پر بھی ہے جو کھاتے ہیں ہر پل نئے زخم

زخم دینے والے کی صحبت سے تلاش کرتے ہیں مرہم

اب ان کے بھی صبر کا پیمانہ ہوا چاہتا ہے ختم

قلب رونا چاہتا ہے آنکھیں رکھتی ہیں خشک نم

بند نمبر 4نظم

​کرکے مقید محبوب کو حب کا نام دیتے ہیں

ہر لمحہ نازک قلب کو پھانسی سرعام دیتے ہیں

ہر فعل بنتا ہے باعث محبوب کی قلب شکنی کا

کر کے دل آزاریاں ہر وقت انہیں الزام دیتے ہیں

بند نمبر 5نظم

​کم ظرفی کی بھی حضور یہ حد نہیں

بے حس کے ہجر کاٹتے آپ واحد نہیں

کیا یہی ہے زندگی محب و محبوب، وفا، بے وفا

رکھتے رضائے الٰہی کے کیوں آپ مقاصد نہیں

بند نمبر 6نظم

​نہ رہا کرو پارہ قلب! اس کے غم میں اب مغموم

یہی نہیں محب تیرا بلکہ زمانے سارے کا ہجوم

ایک نسبت ہے جو رکھتی ہے حدِ ادب محکوم

ورنہ ہر ایک جانتا ہے کون ظالم ہے کون مظلوم

محمد علی (ڈھلوں سرگودھیا)

محمد علی (ڈھلوں)

سرگودھا، پنجاب
شاعر، قانونی محقق و سرگودھا کے معاصر ادبی مکتبہ کے روشن نمائندہ قلم کار۔
CRITICAL APPRECIATION & METRICS

فکری تجزیہ اور بحر و اوزان کی لطافت

CATALOG REFCANON-NAZM-33
EDITION TYPEاشاعتِ عام
CURATED CONNECTIONS

ہم آہنگ کلام و منتخب اشعار

کتب خانہ دیکھیں
متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ