وہ لوگ بھی ہیں یہاں دعویٰ محبت میں مبتلا
جو نہیں ہیں لفظِ محبت کی گہرائی سے آشنا

اردو شاعری اور فکری محفوظات
وہ لوگ بھی ہیں یہاں دعویٰ محبت میں مبتلا
جو نہیں ہیں لفظِ محبت کی گہرائی سے آشنا
جنہیں دکھتے نہیں عیوب اپنی ذات میں نہاں
بلا وجہ ہوئے بیٹے ہیں زمانے بھر سے وہ خفا
کیا ہوتے ہیں حب دار و محبوب میں تقاضے
ہر لمحہ جو نکالیں بلا عذر دل داروں کے جنازے
ششدر ان سے بھی ہوں جو بکھیر بیٹھے شیرازے
منتظر رہتے ہیں تیروں کے کھول کر سب دروازے
حیرت ان پر بھی ہے جو کھاتے ہیں ہر پل نئے زخم
زخم دینے والے کی صحبت سے تلاش کرتے ہیں مرہم
اب ان کے بھی صبر کا پیمانہ ہوا چاہتا ہے ختم
قلب رونا چاہتا ہے آنکھیں رکھتی ہیں خشک نم
کرکے مقید محبوب کو حب کا نام دیتے ہیں
ہر لمحہ نازک قلب کو پھانسی سرعام دیتے ہیں
ہر فعل بنتا ہے باعث محبوب کی قلب شکنی کا
کر کے دل آزاریاں ہر وقت انہیں الزام دیتے ہیں
کم ظرفی کی بھی حضور یہ حد نہیں
بے حس کے ہجر کاٹتے آپ واحد نہیں
کیا یہی ہے زندگی محب و محبوب، وفا، بے وفا
رکھتے رضائے الٰہی کے کیوں آپ مقاصد نہیں
نہ رہا کرو پارہ قلب! اس کے غم میں اب مغموم
یہی نہیں محب تیرا بلکہ زمانے سارے کا ہجوم
ایک نسبت ہے جو رکھتی ہے حدِ ادب محکوم
ورنہ ہر ایک جانتا ہے کون ظالم ہے کون مظلوم
وہ لوگ بھی ہیں یہاں دعویٰ محبت میں مبتلا
جو نہیں ہیں لفظِ محبت کی گہرائی سے آشنا
جنہیں دکھتے نہیں عیوب اپنی ذات میں نہاں
بلا وجہ ہوئے بیٹے ہیں زمانے بھر سے وہ خفا
کیا ہوتے ہیں حب دار و محبوب میں تقاضے
ہر لمحہ جو نکالیں بلا عذر دل داروں کے جنازے
ششدر ان سے بھی ہوں جو بکھیر بیٹھے شیرازے
منتظر رہتے ہیں تیروں کے کھول کر سب دروازے
حیرت ان پر بھی ہے جو کھاتے ہیں ہر پل نئے زخم
زخم دینے والے کی صحبت سے تلاش کرتے ہیں مرہم
اب ان کے بھی صبر کا پیمانہ ہوا چاہتا ہے ختم
قلب رونا چاہتا ہے آنکھیں رکھتی ہیں خشک نم
کرکے مقید محبوب کو حب کا نام دیتے ہیں
ہر لمحہ نازک قلب کو پھانسی سرعام دیتے ہیں
ہر فعل بنتا ہے باعث محبوب کی قلب شکنی کا
کر کے دل آزاریاں ہر وقت انہیں الزام دیتے ہیں
کم ظرفی کی بھی حضور یہ حد نہیں
بے حس کے ہجر کاٹتے آپ واحد نہیں
کیا یہی ہے زندگی محب و محبوب، وفا، بے وفا
رکھتے رضائے الٰہی کے کیوں آپ مقاصد نہیں
نہ رہا کرو پارہ قلب! اس کے غم میں اب مغموم
یہی نہیں محب تیرا بلکہ زمانے سارے کا ہجوم
ایک نسبت ہے جو رکھتی ہے حدِ ادب محکوم
ورنہ ہر ایک جانتا ہے کون ظالم ہے کون مظلوم

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ