شعر 1شعرِ غزل
اگر محبوب جان مانگے تو جان دے دو
آنکھ مانگے تو آنکھ، کان مانگے تو کان دے دو

اردو شاعری اور فکری محفوظات
اگر محبوب جان مانگے تو جان دے دو
آنکھ مانگے تو آنکھ، کان مانگے تو کان دے دو
ختم کرکے اپنی خودی کو زمانے بھر کی مثیل ہوکر
جو بھی چاہے زندگی کہ تم سارے ارمان دے دو
خود کو تم ذلیل کرکے خواہشوں کو قلیل کرکے
اپنے محبوب کو تم خوشی کے سارے سامان دے دو
اگر محبوب جان مانگے تو جان دے دو
آنکھ مانگے تو آنکھ، کان مانگے تو کان دے دو
ختم کرکے اپنی خودی کو زمانے بھر کی مثیل ہوکر
جو بھی چاہے زندگی کہ تم سارے ارمان دے دو
خود کو تم ذلیل کرکے خواہشوں کو قلیل کرکے
اپنے محبوب کو تم خوشی کے سارے سامان دے دو

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ