حسن تجھے مبارک ہوں تیری صحبتیں
سن اب ہم بھی اپنے مزاج کے لوگ ہیں

اردو شاعری اور فکری محفوظات
حسن تجھے مبارک ہوں تیری صحبتیں
سن اب ہم بھی اپنے مزاج کے لوگ ہیں
عادت ڈال کر اپنی جو چھوڑ جائیں
ہے کسی کو کچھ علم یہ کس سماج کے لوگ ہیں
حق ہے کہ پلٹیں اور ایسا پلٹیں نہ لوٹیں کبھی
اسی سزا کے ہیں مستحق، اسی علاج کے لوگ ہیں
اپنی ہی انا میں جو رہیں ہر لمحہ علی مستغرق
نہ وہ خود اپنے ہیں نہ ہی ہمارے کام کاج کے لوگ ہیں
حسن تجھے مبارک ہوں تیری صحبتیں
سن اب ہم بھی اپنے مزاج کے لوگ ہیں
عادت ڈال کر اپنی جو چھوڑ جائیں
ہے کسی کو کچھ علم یہ کس سماج کے لوگ ہیں
حق ہے کہ پلٹیں اور ایسا پلٹیں نہ لوٹیں کبھی
اسی سزا کے ہیں مستحق، اسی علاج کے لوگ ہیں
اپنی ہی انا میں جو رہیں ہر لمحہ علی مستغرق
نہ وہ خود اپنے ہیں نہ ہی ہمارے کام کاج کے لوگ ہیں

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ