CANON-NAZM-31 • اشاعتِ عام
نظمیںسرگودھا ایڈیشن

نظم نمبر 31

شاعر: محمد علی • ڈھلوں سرگودھیاCatalogue Reference: CANON-NAZM-31
شعر 1شعرِ غزل

​محبت و عشق میں نہیں فرصت اب قلبِ مجرم کو

شاید اسی لیے شاعری سے دھیان بھٹکتا جا رہا ہے

شعر 2شعرِ غزل

لیکن اس دیوان میں پڑی ہیں اغزال آنسوؤں کی طرح

جنہیں دیکھ کر بجھا ہوا شعلہِ عشق بھڑکتا جا رہا ہے

شعر 3شعرِ غزل

محبوب کے ہجر میں لکھی زیرِ ستم وہ غزلیں پڑھ کر

نہیں قابو میں آتا دل بے ساختہ دھڑکتا جا رہا ہے

شعر 4شعرِ غزل

نہ محسوس کر سکے ظالم بے وفا اس عاشق پر طاری کیفیت کو

ہمارے الفاظ بن گئے ہر ایک کی زبان کی زینت

شعر 5شعرِ غزل

جس سے بے وفاؤں کا دروازہ کھٹکتا جا رہا ہے

بند نمبر 1نظم

​محبت و عشق میں نہیں فرصت اب قلبِ مجرم کو

شاید اسی لیے شاعری سے دھیان بھٹکتا جا رہا ہے

لیکن اس دیوان میں پڑی ہیں اغزال آنسوؤں کی طرح

جنہیں دیکھ کر بجھا ہوا شعلہِ عشق بھڑکتا جا رہا ہے

بند نمبر 2نظم

محبوب کے ہجر میں لکھی زیرِ ستم وہ غزلیں پڑھ کر

نہیں قابو میں آتا دل بے ساختہ دھڑکتا جا رہا ہے

نہ محسوس کر سکے ظالم بے وفا اس عاشق پر طاری کیفیت کو

ہمارے الفاظ بن گئے ہر ایک کی زبان کی زینت

بند نمبر 3نظم

جس سے بے وفاؤں کا دروازہ کھٹکتا جا رہا ہے

محمد علی (ڈھلوں سرگودھیا)

محمد علی (ڈھلوں)

سرگودھا، پنجاب
شاعر، قانونی محقق و سرگودھا کے معاصر ادبی مکتبہ کے روشن نمائندہ قلم کار۔
CRITICAL APPRECIATION & METRICS

فکری تجزیہ اور بحر و اوزان کی لطافت

CATALOG REFCANON-NAZM-31
EDITION TYPEاشاعتِ عام
CURATED CONNECTIONS

ہم آہنگ کلام و منتخب اشعار

کتب خانہ دیکھیں
متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ