شعر 1شعرِ غزل
گزشتہ سال کھڑے گلاب پر
اچانک میری نظر پڑی تھی

اردو شاعری اور فکری محفوظات
گزشتہ سال کھڑے گلاب پر
اچانک میری نظر پڑی تھی
کھلا بڑے ہجوم میں جس پر
ہر اک کی نظر کھڑی تھی
اس کی تازگی، شائستگی
اور کیا کیا بتاؤں تجھے
سرخ رنگ کی نازک پنکھڑی،
ظاہری حالت ہری بھری تھی
ہجوم میں ہر فرد مطلوب تھا اس مہک کا
مگر اس گل کی خوشبو میری طرف بڑھی تھی
گزشتہ سال کھڑے گلاب پر
اچانک میری نظر پڑی تھی
کھلا بڑے ہجوم میں جس پر
ہر اک کی نظر کھڑی تھی
اس کی تازگی، شائستگی
اور کیا کیا بتاؤں تجھے
سرخ رنگ کی نازک پنکھڑی،
ظاہری حالت ہری بھری تھی
ہجوم میں ہر فرد مطلوب تھا اس مہک کا
مگر اس گل کی خوشبو میری طرف بڑھی تھی

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ