کسی کا جملہ ہے بڑی منزلوں کے مسافر کبھی گھبرایا نہیں کرتے
جب لڑیں تو جان سے چھوٹی باتوں پر مسئلے بنایا نہیں کرتے

اردو شاعری اور فکری محفوظات
کسی کا جملہ ہے بڑی منزلوں کے مسافر کبھی گھبرایا نہیں کرتے
جب لڑیں تو جان سے چھوٹی باتوں پر مسئلے بنایا نہیں کرتے
ان کا ہر اک قول رکھتا ہے حکم کی حیثیت
وہ تفصیل سے کسی کو سمجھایا نہیں کرتے
ان کا جواب ان کے عمل سے ہوتا ہے
وہ زباں سے لفظوں کا ضیاء نہیں کرتے
بنیں محسن محض رضائے خدا کے لیے
وہ وفا کے بدلے صاحبِ وفا نہیں کرتے
ہو جائے سرزنش تہہ دل سے اعتراف کریں
کرکے فرائض میں کوتاہی خطا نہیں کرتے
یہ علامت ہے حق کے مسافروں کی علی
ساتھ چلنے والوں کو کبھی خفا نہیں کرتے
کسی کا جملہ ہے بڑی منزلوں کے مسافر کبھی گھبرایا نہیں کرتے
جب لڑیں تو جان سے چھوٹی باتوں پر مسئلے بنایا نہیں کرتے
ان کا ہر اک قول رکھتا ہے حکم کی حیثیت
وہ تفصیل سے کسی کو سمجھایا نہیں کرتے
ان کا جواب ان کے عمل سے ہوتا ہے
وہ زباں سے لفظوں کا ضیاء نہیں کرتے
بنیں محسن محض رضائے خدا کے لیے
وہ وفا کے بدلے صاحبِ وفا نہیں کرتے
ہو جائے سرزنش تہہ دل سے اعتراف کریں
کرکے فرائض میں کوتاہی خطا نہیں کرتے
یہ علامت ہے حق کے مسافروں کی علی
ساتھ چلنے والوں کو کبھی خفا نہیں کرتے

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ