کبھی اپنی نشست پر بیٹھ کر میں بہت اداس ہو جاتا ہوں
دل نہیں لگتا کسی شے میں کیوں بدحواس ہو جاتا ہوں

اردو شاعری اور فکری محفوظات
کبھی اپنی نشست پر بیٹھ کر میں بہت اداس ہو جاتا ہوں
دل نہیں لگتا کسی شے میں کیوں بدحواس ہو جاتا ہوں
فرق نہیں کر پاتا دوست میں نہ ہی دشمنوں میں اکثر
مشکل میں جو ساتھ دے اسی کا احساس ہو جاتا ہوں
جو میری اوقات سے ہو واقف پھر ساتھ نہ چھوڑے
چاہے میں کتنا بھی گرا ہوں میرا دل نہ کبھی توڑے
نہ خواب خیال نہ حال میں دوڑے
میرے ساتھ ہی ہر مشکل کو چادر کی طرح اوڑھے
طالب ہوں نہ اس کا متلاشی ہوں ازل سے
جو وفا لے کے نہ دے کام لے نہ عدل سے
بھٹکا دیتا ہے مجھے اکثر وہی منزل سے
جو استفادہ نہ کرے میری کسی غزل سے
نازک نہ ہو کیوں وہ زیادہ مخمل سے
نکال دیتا ہوں اسے میں یوں دل سے
انہیں امراء کے لیے دل اکثر افلاس ہو جاتا ہوں
کسی غرض کے سوا انہیں بلاتا نہیں ہوں
انہیں کی طرح بے انصاف ہو جاتا ہوں۔
کبھی اپنی نشست پر بیٹھ کر میں بہت اداس ہو جاتا ہوں
دل نہیں لگتا کسی شے میں کیوں بدحواس ہو جاتا ہوں
فرق نہیں کر پاتا دوست میں نہ ہی دشمنوں میں اکثر
مشکل میں جو ساتھ دے اسی کا احساس ہو جاتا ہوں
جو میری اوقات سے ہو واقف پھر ساتھ نہ چھوڑے
چاہے میں کتنا بھی گرا ہوں میرا دل نہ کبھی توڑے
نہ خواب خیال نہ حال میں دوڑے
میرے ساتھ ہی ہر مشکل کو چادر کی طرح اوڑھے
طالب ہوں نہ اس کا متلاشی ہوں ازل سے
جو وفا لے کے نہ دے کام لے نہ عدل سے
بھٹکا دیتا ہے مجھے اکثر وہی منزل سے
جو استفادہ نہ کرے میری کسی غزل سے
نازک نہ ہو کیوں وہ زیادہ مخمل سے
نکال دیتا ہوں اسے میں یوں دل سے
انہیں امراء کے لیے دل اکثر افلاس ہو جاتا ہوں
کسی غرض کے سوا انہیں بلاتا نہیں ہوں
انہیں کی طرح بے انصاف ہو جاتا ہوں۔

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ