وفاداروں سے ہوتی ہیں اکثر وفائیں
ہم بے وفاؤں سے صاحب وفا کرتے ہیں۔

اردو شاعری اور فکری محفوظات
وفاداروں سے ہوتی ہیں اکثر وفائیں
ہم بے وفاؤں سے صاحب وفا کرتے ہیں۔
وجہ پوچھتے ہو تم ہم سے اشد
نہیں وجہ بلکہ بلاوجہ کرتے ہیں
کر رہے ہو تم بھی عرصے سے مشاہدہ
کچھ پتہ چلا کہ ہم کیا کرتے ہیں
نہیں معلوم کر پاؤ گے یہ ہمارا دعویٰ ہے
تمہاری سوچ کی ہم انتہا کرتے ہیں۔
یہ لکھ لو کہ ہم وفا نہیں کرتے بلکہ
ہر کام سمجھ کر خدا کی رضا کرتے ہیں۔
وفاداروں سے ہوتی ہیں اکثر وفائیں
ہم بے وفاؤں سے صاحب وفا کرتے ہیں۔
وجہ پوچھتے ہو تم ہم سے اشد
نہیں وجہ بلکہ بلاوجہ کرتے ہیں
کر رہے ہو تم بھی عرصے سے مشاہدہ
کچھ پتہ چلا کہ ہم کیا کرتے ہیں
نہیں معلوم کر پاؤ گے یہ ہمارا دعویٰ ہے
تمہاری سوچ کی ہم انتہا کرتے ہیں۔
یہ لکھ لو کہ ہم وفا نہیں کرتے بلکہ
ہر کام سمجھ کر خدا کی رضا کرتے ہیں۔

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ