(کوئی پوچھتا ہے)
کوئی پوچھتا ہے مجھ سے اکثر میرے محبوب کا نام

اردو شاعری اور فکری محفوظات
(کوئی پوچھتا ہے)
کوئی پوچھتا ہے مجھ سے اکثر میرے محبوب کا نام
اپنے محبوب کی داستاں آج اسے سنانا چاہتا ہوں
قلبِ عشق کی غم داستاں ذرا سن تو یہاں بیٹھ کر
بننا چاہتے ہو اگر رازداں تو تمہیں آئینہ دکھانا چاہتا ہوں
سننا چاہتے ہو اگر زباں سے تو آنسو پونچھو اطمیناں سے
پوری زندگی کے لیے تمہیں اپنا بنانا چاہتا ہوں
آج یہ پھول اگر کھلا ہے تو محض تیرے لیے جانا
اپنے ہاتھ سے اسے تیرے ہاتھ میں تھمانا چاہتا ہوں
(کوئی پوچھتا ہے)
کوئی پوچھتا ہے مجھ سے اکثر میرے محبوب کا نام
اپنے محبوب کی داستاں آج اسے سنانا چاہتا ہوں
قلبِ عشق کی غم داستاں ذرا سن تو یہاں بیٹھ کر
بننا چاہتے ہو اگر رازداں تو تمہیں آئینہ دکھانا چاہتا ہوں
سننا چاہتے ہو اگر زباں سے تو آنسو پونچھو اطمیناں سے
پوری زندگی کے لیے تمہیں اپنا بنانا چاہتا ہوں
آج یہ پھول اگر کھلا ہے تو محض تیرے لیے جانا
اپنے ہاتھ سے اسے تیرے ہاتھ میں تھمانا چاہتا ہوں

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ