کوئی چاہتا ہے اگر اپنے مستقبل کی بقا
ادارہِ قانون جسے کہتے ہیں منتظر ہے الجناح

اردو شاعری اور فکری محفوظات
کوئی چاہتا ہے اگر اپنے مستقبل کی بقا
ادارہِ قانون جسے کہتے ہیں منتظر ہے الجناح
یہاں قلوب بھی کشادہ ہیں کمروں کی طرح
ہر شب قلب کو چھوتا ہے جیسے چھوتی ہے صبا
جو محروم ہے زمانے میں احساس کی بو سے
اس گلشن کے ہر کوچے میں پنہاں ہے وفا
ہم ادھر ہی ہیں آ جائے ہر اک متلاشی وفا کا
جو خفا ہے زمانے سے جس سے زمانہ ہے خفا
صبا سے بھی منفرد ہے ہمارے پاس گلِ نسیم
لاکھوں طلباء کے بھی معلم یہاں ہیں سر فہیم
طرزِ تدریس قابلِ ستائش اور ہے بالکل عظیم
جن کا رکھتا ہے ہر شب سب سے منفرد تفہیم
طلباء کے شب و روز سے یہاں جو واقف بھی
اللہ والوں کی فہرست میں جو عاقف بھی ہیں
جن کی صحبت سے ہوتا ہے ہر بچہ محظوظ
بہترین اساتذہ کی فہرست میں سر عاطف بھی
سن لیں باقی رہ گئے جو کچھ اہم عنوان
اعلیٰ تخیل کے مالک رکھتے ہیں جو منفرد گمان
جن کے اسباق سے طلبا ہو جاتے ہیں حیران
اساتذہ میں ہینڈسم ہیں محض سر رضوان
جن کی طرزِ تدریس فہم رکھتی ہے پیچیدہ
ہو جاتے ہیں جن کی آمد سے سب بچے رنجیدہ
نظم و ضبط کے معاملے میں ہیں جو بہت سنجیدہ
معلموں کی فہرست میں ہے یہ میم فہمیدہ
نہ دل کی بات جن سے کر سکے بھلا ہے کوئی مجال
یہاں جن کے ہونے سے ہے ادارے کی ترقی کا کمال
فرض شناسی میں جو رکھتی ہیں اک منفرد مثال
محترمہ یہاں بیٹھی ہیں ہاں وہ ہیں محترمہ میشال
نامِ عدو کے لیے کافی ہے نہیں ہے ضرورتِ شور
جن کا ہر شب اور جملہ ہے ہمارے لیے قابلِ غور
شاہینوں کے شہر میں نہیں اس شاہین کا کوئی جوڑ
مختارِ کار ہیں اس ادارہِ قانون کے جناب فرخ سمور
یہاں طلبا کی فہرست میں کوئی گلِ زید بھی ہے
احباب کی فہرست میں رہ چکا یہ عبید بھی ہے
سمجھتا ہم کو یہاں کوئی بے کار بھی ہے
میں یہاں سب سے پہلے جسے ملا وہ عمار ہی ہے
میری کلاس کے پھولوں میں اک گلِ زیب بھی ہے
سب پھلوں میں منفرد اک سنہری سیب بھی ہے
اکثر بن جاتا ہے جو کتنوں کی مسکان کی وجہ
میرے احباب کی فہرست میں شاہذیب بھی ہے
منفرد مسکان کا مالک اک عجیب بھی ہے
ہم ثقافت طلبا کے بہت قریب بھی ہے
مسکراہٹ کی بدولت سب کا حبیب بھی ہے
ہم مکتب طلباء میں طالبعلم یہ نقیب بھی ہے
طلبا کے ہر معاملے میں ہے جو معاون و مددگار
انجانے سے بن جاتا ہے کبھی کبھی جو خطاکار
کچھ کے آئنوں میں جو مرکزِ فساد بھی ہے
گمان مرضی کا لانے میں جو آزاد بھی ہے
کچھ احباب کی فہرست میں جو دلشاد بھی ہے
میرے احباب کی فہرست میں شیخ حماد بھی ہے
علی جنہیں سمجھتا ہے خاص ان کے لیے عام بھی ہے
تشنگی ختم نہ کر سکا اک یہاں وفا کا جام بھی ہے
جسے غرض نہیں کسی سے، کام سے کام ھی طے ہے
اور ہم سے بے وفائی کا، بے وفا کا الزام بھی ہے
استفادہ کرتا ہماری صحبت سے صبح شام بھی ہے
بہترین احباب کی فہرست میں شیخ فرزام ہی ہے
کوئی چاہتا ہے اگر اپنے مستقبل کی بقا
ادارہِ قانون جسے کہتے ہیں منتظر ہے الجناح
یہاں قلوب بھی کشادہ ہیں کمروں کی طرح
ہر شب قلب کو چھوتا ہے جیسے چھوتی ہے صبا
جو محروم ہے زمانے میں احساس کی بو سے
اس گلشن کے ہر کوچے میں پنہاں ہے وفا
ہم ادھر ہی ہیں آ جائے ہر اک متلاشی وفا کا
جو خفا ہے زمانے سے جس سے زمانہ ہے خفا
صبا سے بھی منفرد ہے ہمارے پاس گلِ نسیم
لاکھوں طلباء کے بھی معلم یہاں ہیں سر فہیم
طرزِ تدریس قابلِ ستائش اور ہے بالکل عظیم
جن کا رکھتا ہے ہر شب سب سے منفرد تفہیم
طلباء کے شب و روز سے یہاں جو واقف بھی
اللہ والوں کی فہرست میں جو عاقف بھی ہیں
جن کی صحبت سے ہوتا ہے ہر بچہ محظوظ
بہترین اساتذہ کی فہرست میں سر عاطف بھی
سن لیں باقی رہ گئے جو کچھ اہم عنوان
اعلیٰ تخیل کے مالک رکھتے ہیں جو منفرد گمان
جن کے اسباق سے طلبا ہو جاتے ہیں حیران
اساتذہ میں ہینڈسم ہیں محض سر رضوان
جن کی طرزِ تدریس فہم رکھتی ہے پیچیدہ
ہو جاتے ہیں جن کی آمد سے سب بچے رنجیدہ
نظم و ضبط کے معاملے میں ہیں جو بہت سنجیدہ
معلموں کی فہرست میں ہے یہ میم فہمیدہ
نہ دل کی بات جن سے کر سکے بھلا ہے کوئی مجال
یہاں جن کے ہونے سے ہے ادارے کی ترقی کا کمال
فرض شناسی میں جو رکھتی ہیں اک منفرد مثال
محترمہ یہاں بیٹھی ہیں ہاں وہ ہیں محترمہ میشال
نامِ عدو کے لیے کافی ہے نہیں ہے ضرورتِ شور
جن کا ہر شب اور جملہ ہے ہمارے لیے قابلِ غور
شاہینوں کے شہر میں نہیں اس شاہین کا کوئی جوڑ
مختارِ کار ہیں اس ادارہِ قانون کے جناب فرخ سمور
یہاں طلبا کی فہرست میں کوئی گلِ زید بھی ہے
احباب کی فہرست میں رہ چکا یہ عبید بھی ہے
سمجھتا ہم کو یہاں کوئی بے کار بھی ہے
میں یہاں سب سے پہلے جسے ملا وہ عمار ہی ہے
میری کلاس کے پھولوں میں اک گلِ زیب بھی ہے
سب پھلوں میں منفرد اک سنہری سیب بھی ہے
اکثر بن جاتا ہے جو کتنوں کی مسکان کی وجہ
میرے احباب کی فہرست میں شاہذیب بھی ہے
منفرد مسکان کا مالک اک عجیب بھی ہے
ہم ثقافت طلبا کے بہت قریب بھی ہے
مسکراہٹ کی بدولت سب کا حبیب بھی ہے
ہم مکتب طلباء میں طالبعلم یہ نقیب بھی ہے
طلبا کے ہر معاملے میں ہے جو معاون و مددگار
انجانے سے بن جاتا ہے کبھی کبھی جو خطاکار
کچھ کے آئنوں میں جو مرکزِ فساد بھی ہے
گمان مرضی کا لانے میں جو آزاد بھی ہے
کچھ احباب کی فہرست میں جو دلشاد بھی ہے
میرے احباب کی فہرست میں شیخ حماد بھی ہے
علی جنہیں سمجھتا ہے خاص ان کے لیے عام بھی ہے
تشنگی ختم نہ کر سکا اک یہاں وفا کا جام بھی ہے
جسے غرض نہیں کسی سے، کام سے کام ھی طے ہے
اور ہم سے بے وفائی کا، بے وفا کا الزام بھی ہے
استفادہ کرتا ہماری صحبت سے صبح شام بھی ہے
بہترین احباب کی فہرست میں شیخ فرزام ہی ہے

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ