(عشقِ رسول ﷺ اور استقامت)
جو خدا کا مقبول ہو تجھے واقعی وہ قبول

اردو شاعری اور فکری محفوظات
(عشقِ رسول ﷺ اور استقامت)
جو خدا کا مقبول ہو تجھے واقعی وہ قبول
محبتوں کا مرکز بن جائے محض خدا کا رسول ﷺ
قفلِ قلب نصیب ہو ہر دنیاوی محبت سے تجھے
کرو ہر شخص سے کنارا جو بات کرے فضول
جو فعل ہو منحصر رسول و خدا کی رضا پر
کاش ہو جائیں ایسے کاموں میں ہم مشغول
یہ جو خواہش ہے تیری دنیا کو بھولنے کی
یہی دعا ہے میری کہ یہ جذبہ رہے سلامت
توبہ کریں مل کر جو لمحے ضائع کیے ہم نے
مجھے بھی دے خدا تجھے بھی استقامت
نہ اٹھے پھر کبھی خواہش کاش ایسی دوستی کی
کڑھتا رہے باطن اور ہمیں ہوتی رہے ملامت
شرم سے سجدے سے کبھی سر اٹھا ہی نہ پائیں
نہ چھوڑے کبھی پیچھا ہو ایسی ہمیں ندامت
اپنے محبوب کے لیے دھڑکے دل بنایا تھا خدا نے
ہمیں دیا تھا اس نے بطور ایک قیمتی امانت
جب سے آئے ہیں اس دارِ خود غرضی میں عثمان
کتنی دفعہ کی ہم نے کبھی سوچا ہے خیانت
آؤ کریں اک عہد اس خدا سے حشر تک بندگی کا
علی جو خدا سے کرے دور ہو اس محبت پہ لعنت
(عشقِ رسول ﷺ اور استقامت)
جو خدا کا مقبول ہو تجھے واقعی وہ قبول
محبتوں کا مرکز بن جائے محض خدا کا رسول ﷺ
قفلِ قلب نصیب ہو ہر دنیاوی محبت سے تجھے
کرو ہر شخص سے کنارا جو بات کرے فضول
جو فعل ہو منحصر رسول و خدا کی رضا پر
کاش ہو جائیں ایسے کاموں میں ہم مشغول
یہ جو خواہش ہے تیری دنیا کو بھولنے کی
یہی دعا ہے میری کہ یہ جذبہ رہے سلامت
توبہ کریں مل کر جو لمحے ضائع کیے ہم نے
مجھے بھی دے خدا تجھے بھی استقامت
نہ اٹھے پھر کبھی خواہش کاش ایسی دوستی کی
کڑھتا رہے باطن اور ہمیں ہوتی رہے ملامت
شرم سے سجدے سے کبھی سر اٹھا ہی نہ پائیں
نہ چھوڑے کبھی پیچھا ہو ایسی ہمیں ندامت
اپنے محبوب کے لیے دھڑکے دل بنایا تھا خدا نے
ہمیں دیا تھا اس نے بطور ایک قیمتی امانت
جب سے آئے ہیں اس دارِ خود غرضی میں عثمان
کتنی دفعہ کی ہم نے کبھی سوچا ہے خیانت
آؤ کریں اک عہد اس خدا سے حشر تک بندگی کا
علی جو خدا سے کرے دور ہو اس محبت پہ لعنت

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ