تیری عمر دراز ہو،
تیرا ظرف فراز ہو

اردو شاعری اور فکری محفوظات
تیری عمر دراز ہو،
تیرا ظرف فراز ہو
پہن کر لبادہِ عشقِ حقیقی، باقی سب سے بے نیاز ہو
ہو جائیں طویل سجدے،
پاس تیرے ایسا جواز ہو
نہ آئے کبھی عبادت میں قضا، چاہے حالت تیری جتنی ناساز ہو
اب آ رہا ہوں پھر سگِ عطار کی صحبت سے
آقا ﷺ کے عشق میں مبتلا بیمار کی صحبت سے
غم ساز کہاں سنتے ہیں جنہیں سناتے ہیں غم
اس لیے آ رہے ہیں غمخوار کی صحبت سے
تیری عمر دراز ہو،
تیرا ظرف فراز ہو
پہن کر لبادہِ عشقِ حقیقی، باقی سب سے بے نیاز ہو
ہو جائیں طویل سجدے،
پاس تیرے ایسا جواز ہو
نہ آئے کبھی عبادت میں قضا، چاہے حالت تیری جتنی ناساز ہو
اب آ رہا ہوں پھر سگِ عطار کی صحبت سے
آقا ﷺ کے عشق میں مبتلا بیمار کی صحبت سے
غم ساز کہاں سنتے ہیں جنہیں سناتے ہیں غم
اس لیے آ رہے ہیں غمخوار کی صحبت سے

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ