ہے وہ کون جو اس ملک کی تقدیر بدلے
وہ کون ہے جو لڑنے کی شمشیر بدلے

اردو شاعری اور فکری محفوظات
ہے وہ کون جو اس ملک کی تقدیر بدلے
وہ کون ہے جو لڑنے کی شمشیر بدلے
ہے کون جو چاہتا ہے اس ملک کا دفاع
وہ کون ہے جو جنگوں کی تدبیر بدلے
جو رکھتا ہے خواہش گھر بیٹھے فتح یابی کی
ہے اس سے گزارش اپنے دستوں کی تصویر بدلے
جسے غیرت نہیں جل رہے ہیں کروڑوں مسلماں
اسے دلاتا ہوں میں غیرت وہ اپنا ضمیر بدلے
کیوں نہیں پہنچتی خبریں مظلوموں کی سب تک
کتنا سنگدل ہے ذرائع اپنی خبروں کی تشہیر بدلے
جو دیتا نہیں درسِ جہاد کا مریدوں کو
ہے اس مرید کو گزارش وہ اپنی الفت کا پیر بدلے۔
کیوں بے حس ہیں مسلم مظلوموں کی صدا سے
جو اٹھی غلیظ نقطے کی بدولت اور نجس وبا سے
پس رہے ہیں ظلم کی چکی میں ہر قوم کے ہاتھوں
رکھتے ہیں اک خدا پر ایمان کیا اسی خطا سے
نہیں ہو سکتا اگر تو اپنی بے حسی پر پشیماں
تو بدل جاتی ہیں تقدیریں محض اک دعا سے
لٹ رہی ہیں عزتیں وہاں ہماری ہمشیروں کی اے مسلماں
بہرے اور جو ہو ایماں سے تو دل کیوں خالی ہے حیاء سے
تجھے الفت ہے اگر اس دنیا کی مال و عزت اور متاع سے
تو بتا کیا آقا ﷺ راضی ہوں گے تیری ایسی بقا سے
ہے وہ کون جو اس ملک کی تقدیر بدلے
وہ کون ہے جو لڑنے کی شمشیر بدلے
ہے کون جو چاہتا ہے اس ملک کا دفاع
وہ کون ہے جو جنگوں کی تدبیر بدلے
جو رکھتا ہے خواہش گھر بیٹھے فتح یابی کی
ہے اس سے گزارش اپنے دستوں کی تصویر بدلے
جسے غیرت نہیں جل رہے ہیں کروڑوں مسلماں
اسے دلاتا ہوں میں غیرت وہ اپنا ضمیر بدلے
کیوں نہیں پہنچتی خبریں مظلوموں کی سب تک
کتنا سنگدل ہے ذرائع اپنی خبروں کی تشہیر بدلے
جو دیتا نہیں درسِ جہاد کا مریدوں کو
ہے اس مرید کو گزارش وہ اپنی الفت کا پیر بدلے۔
کیوں بے حس ہیں مسلم مظلوموں کی صدا سے
جو اٹھی غلیظ نقطے کی بدولت اور نجس وبا سے
پس رہے ہیں ظلم کی چکی میں ہر قوم کے ہاتھوں
رکھتے ہیں اک خدا پر ایمان کیا اسی خطا سے
نہیں ہو سکتا اگر تو اپنی بے حسی پر پشیماں
تو بدل جاتی ہیں تقدیریں محض اک دعا سے
لٹ رہی ہیں عزتیں وہاں ہماری ہمشیروں کی اے مسلماں
بہرے اور جو ہو ایماں سے تو دل کیوں خالی ہے حیاء سے
تجھے الفت ہے اگر اس دنیا کی مال و عزت اور متاع سے
تو بتا کیا آقا ﷺ راضی ہوں گے تیری ایسی بقا سے

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ