میرے عطار میرے عطار میرے عطار میرے عطار
بیٹھا ہے تیرے سامنے تیرے بیماروں کا بیمار

اردو شاعری اور فکری محفوظات
میرے عطار میرے عطار میرے عطار میرے عطار
بیٹھا ہے تیرے سامنے تیرے بیماروں کا بیمار
مجھے کر دو جس کے تم ہو گم کر دو جہاں گم ہو
ہٹا دو چھا گیا ہے جو دنیا کا قلب میرے پر غبار
کسے سناؤں جو بیتی ہے تیرے سگ پر ان دنوں
نہیں دکھتا مجھے تیرے سوا کوئی میرا غمخوار
ہوں پڑھتا سب نمازیں رکھتا سارے روزے بھی
نہیں ملتا پر پھر بھی کیوں دل کو میرے قرار
میرے عطار عطا کر دو مجھے عشقِ رسول اللہ
ہوا بیٹھا ہوں دنیاوی محبتوں سے بڑا میں خوار
سگ کر دو مجھے آقا ﷺ کا جو آقا ہیں تیرے عطار
برہم ہوں میں دنیا سے مجھ سے ہو جائے یہ بیزار
میرے عطار میرے عطار میرے عطار میرے عطار
بیٹھا ہے تیرے سامنے تیرے بیماروں کا بیمار
مجھے کر دو جس کے تم ہو گم کر دو جہاں گم ہو
ہٹا دو چھا گیا ہے جو دنیا کا قلب میرے پر غبار
کسے سناؤں جو بیتی ہے تیرے سگ پر ان دنوں
نہیں دکھتا مجھے تیرے سوا کوئی میرا غمخوار
ہوں پڑھتا سب نمازیں رکھتا سارے روزے بھی
نہیں ملتا پر پھر بھی کیوں دل کو میرے قرار
میرے عطار عطا کر دو مجھے عشقِ رسول اللہ
ہوا بیٹھا ہوں دنیاوی محبتوں سے بڑا میں خوار
سگ کر دو مجھے آقا ﷺ کا جو آقا ہیں تیرے عطار
برہم ہوں میں دنیا سے مجھ سے ہو جائے یہ بیزار

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ