میرے عطار عطا کر دو مجھے عشقِ رسول اللہ
کئیوں کو جامِ عشقِ مصطفیٰ ﷺ پلا دیا تُو نے

اردو شاعری اور فکری محفوظات
میرے عطار عطا کر دو مجھے عشقِ رسول اللہ
کئیوں کو جامِ عشقِ مصطفیٰ ﷺ پلا دیا تُو نے
قفلِ چشم و کان نہیں قلب بھی لگا بیٹھے
کیا ایسا جوانوں کو عطا شرم و حیا تُو نے
ہوتا ہوگا لوح و قلم سے بھی آگے تذکرہ تیرا
داعیِ دین ثابت کر دی محمد ﷺ سے وفا تُو نے
عاجز کر دیا متکبر کو ہے مقلد اب وہ تیرا
ختم کر دی متکبروں کی میرے مرشد انا تُو نے
مبرّا ہو جو کوئی سنت، تجھ سے دکھائے کوئی
وجودِ مصطفیٰ ﷺ میں کر لیا وجود اپنا فنا تُو نے
بدولتِ تیری مقیّد ہیں قلب کتنے مدینے میں
مدینے کی دلوں میں دی بنا ایسی جگہ تُو نے
تلاوت و نعت سے اب ہر کوئی محظوظ ہوتا ہے
حقیقت میں عطا کر دی روحوں کو غذا تُو نے
بن کر نوجوان باریش پہنتے اب امامے ہیں
ظاہر کی نمائش سے لیا مرشد بچا تُو نے
چیختا اب پٹخ کر سر، نسلیں اس کی روتی ہیں
شیطان اور اس کی نسلوں کو کیا ایسا رسوا تُو نے
ہونا چاہتا ہے اب علی بھی عشقِ احمد ﷺ میں فنا
دل میں محبتِ شاہِ امم کی جلانی ہے ضیا تُو نے
میرے عطار عطا کر دو مجھے عشقِ رسول اللہ
کئیوں کو جامِ عشقِ مصطفیٰ ﷺ پلا دیا تُو نے
قفلِ چشم و کان نہیں قلب بھی لگا بیٹھے
کیا ایسا جوانوں کو عطا شرم و حیا تُو نے
ہوتا ہوگا لوح و قلم سے بھی آگے تذکرہ تیرا
داعیِ دین ثابت کر دی محمد ﷺ سے وفا تُو نے
عاجز کر دیا متکبر کو ہے مقلد اب وہ تیرا
ختم کر دی متکبروں کی میرے مرشد انا تُو نے
مبرّا ہو جو کوئی سنت، تجھ سے دکھائے کوئی
وجودِ مصطفیٰ ﷺ میں کر لیا وجود اپنا فنا تُو نے
بدولتِ تیری مقیّد ہیں قلب کتنے مدینے میں
مدینے کی دلوں میں دی بنا ایسی جگہ تُو نے
تلاوت و نعت سے اب ہر کوئی محظوظ ہوتا ہے
حقیقت میں عطا کر دی روحوں کو غذا تُو نے
بن کر نوجوان باریش پہنتے اب امامے ہیں
ظاہر کی نمائش سے لیا مرشد بچا تُو نے
چیختا اب پٹخ کر سر، نسلیں اس کی روتی ہیں
شیطان اور اس کی نسلوں کو کیا ایسا رسوا تُو نے
ہونا چاہتا ہے اب علی بھی عشقِ احمد ﷺ میں فنا
دل میں محبتِ شاہِ امم کی جلانی ہے ضیا تُو نے

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ