شعر 1شعرِ غزل
نہ ہو گر یہ یقیں دل کو پھر محبوب سے ملنے کا
دل پارہ پارہ ہو جائے پھر ہجر کا پھول نہ کھلنے کا

اردو شاعری اور فکری محفوظات
نہ ہو گر یہ یقیں دل کو پھر محبوب سے ملنے کا
دل پارہ پارہ ہو جائے پھر ہجر کا پھول نہ کھلنے کا
اگر ابنِ یوسف نہ تھامتا دل کو تو ہم مدہوش ہو جاتے
بیٹھے رہیں گے درِ یار پر، کبھی نام نہ لیں گے ہلنے کا

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ