جس صفحے کا سینہ ہو ہمارے نام سے بھی مزین
لگتا ہے تمہاری ڈائری میں کوئی ایسا ورق نہیں پڑتا

اردو شاعری اور فکری محفوظات
جس صفحے کا سینہ ہو ہمارے نام سے بھی مزین
لگتا ہے تمہاری ڈائری میں کوئی ایسا ورق نہیں پڑتا
مجھے لگا میں شمع ہوں جس سے تاریکیاں ہوں دور
لیکن حقیقت میں پہاڑوں پر دیوں کا برق نہیں پڑتا
ہم سے کیوں کوئی روٹھے اور ہمیں کھوکر پچھتائے
میرے ظرف میں تمہارے مزاج کا کوئی مرق نہیں پڑتا
یہ علم ہے کہ ہو جاتے ہیں ویران بنا گلزار کے گلستاں
سوائے اک مالی کے باغبانی کا کسی کو طرق نہیں پڑتا
ہمارے جانے سے بھی شاید بزم کی ہیں رونقیں قائم
علی ہمارے آنے سے بھی گلشن میں کوئی فرق نہیں پڑتا
جس صفحے کا سینہ ہو ہمارے نام سے بھی مزین
لگتا ہے تمہاری ڈائری میں کوئی ایسا ورق نہیں پڑتا
مجھے لگا میں شمع ہوں جس سے تاریکیاں ہوں دور
لیکن حقیقت میں پہاڑوں پر دیوں کا برق نہیں پڑتا
ہم سے کیوں کوئی روٹھے اور ہمیں کھوکر پچھتائے
میرے ظرف میں تمہارے مزاج کا کوئی مرق نہیں پڑتا
یہ علم ہے کہ ہو جاتے ہیں ویران بنا گلزار کے گلستاں
سوائے اک مالی کے باغبانی کا کسی کو طرق نہیں پڑتا
ہمارے جانے سے بھی شاید بزم کی ہیں رونقیں قائم
علی ہمارے آنے سے بھی گلشن میں کوئی فرق نہیں پڑتا

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ