شعر 1شعرِ غزل
تو نہیں ملے گا ہم کو یہ تو معلوم ہے پارہ قلب
رستے میں کھڑا ہوتا ہوں تیرے مسافروں کی طرح

اردو شاعری اور فکری محفوظات
تو نہیں ملے گا ہم کو یہ تو معلوم ہے پارہ قلب
رستے میں کھڑا ہوتا ہوں تیرے مسافروں کی طرح
جس محفل میں جاتا ہوں خاموش لوٹ آتا ہوں
وفا نہ خرید سکا حب کے ناکام تاجروں کی طرح
میری حالتِ زار پر ذرا کچھ تو ترس کھاؤ
لوگ مثال دیتے ہیں میری مشہور محاوروں کی طرح
تو نہیں ملے گا ہم کو یہ تو معلوم ہے پارہ قلب
رستے میں کھڑا ہوتا ہوں تیرے مسافروں کی طرح
جس محفل میں جاتا ہوں خاموش لوٹ آتا ہوں
وفا نہ خرید سکا حب کے ناکام تاجروں کی طرح
میری حالتِ زار پر ذرا کچھ تو ترس کھاؤ
لوگ مثال دیتے ہیں میری مشہور محاوروں کی طرح

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ