ہمیں مت آزمائیں ہم اک راز ہیں
زخم لیے بیٹے ہیں پہلو میں بہت

اردو شاعری اور فکری محفوظات
ہمیں مت آزمائیں ہم اک راز ہیں
زخم لیے بیٹے ہیں پہلو میں بہت
تبھی زخمی دلوں کی ہم آواز ہیں
جس حب سے ہے ہر اک وفا کا طالب
متلاشی اسی محبت کا ہم آغاز ہیں
جو زخم کھا کر ہیں جذبات لکھتے
ان مظلوموں میں ہم بے آواز ہیں
اب دوستی کرنا رہی دور کی بات
ہاتھ ملانے سے بھی کرتے لحاظ ہیں۔
نہ سمجھنا تعریف خود کی کرتے ہیں بیان
علی ہم خاموش چھپا ہوا اک راز ہیں
ہمیں مت آزمائیں ہم اک راز ہیں
زخم لیے بیٹے ہیں پہلو میں بہت
تبھی زخمی دلوں کی ہم آواز ہیں
جس حب سے ہے ہر اک وفا کا طالب
متلاشی اسی محبت کا ہم آغاز ہیں
جو زخم کھا کر ہیں جذبات لکھتے
ان مظلوموں میں ہم بے آواز ہیں
اب دوستی کرنا رہی دور کی بات
ہاتھ ملانے سے بھی کرتے لحاظ ہیں۔
نہ سمجھنا تعریف خود کی کرتے ہیں بیان
علی ہم خاموش چھپا ہوا اک راز ہیں

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ