CANON-NAZM-22 • اشاعتِ عام
نظمیںسرگودھا ایڈیشن

نظم نمبر 22

شاعر: محمد علی • ڈھلوں سرگودھیاCatalogue Reference: CANON-NAZM-22
شعر 1شعرِ غزل

​تیری مسکراہٹ یہ کہتی ہے

تیرا دل کبھی بھی رویا نہیں

شعر 2شعرِ غزل

​کسی کی خاطر نہ تو فنا ہوا

ختم تمہارے لیے کوئی ہویا نہیں

شعر 3شعرِ غزل

​تمہاری آرزو ہے یہ کہہ رہی

تمہاری جستجو سے معلوم ہے

شعر 4شعرِ غزل

​غم تجھے کوئی ملا نہیں

علی تو تبھی تو اتنا معصوم ہے

شعر 5شعرِ غزل

​یہ بتا رہی ہیں تیری خاموشیاں

ہے اب غم تجھے کوئی مل گیا

شعر 6شعرِ غزل

​تھا ناآشنا تو جس درد سے

کیا تیرے پہلو سے بھی دل گیا

شعر 7شعرِ غزل

​نہ کہا تھا تجھے کہ یہ میٹھا زہر ہے

پھر بھی تو نے ذائقہ چکھ لیا

شعر 8شعرِ غزل

​دل اپنا تو گنوا بیٹھے ہو پہلو سے

دل کیا اس کا بھی پہلو میں رکھ لیا

شعر 9شعرِ غزل

​اب گھبرا رہا، ہے پچھتا رہا

دل ہی دل میں خود کو سمجھا رہا

شعر 10شعرِ غزل

​ہے علم مجھے کہ تو ہے باوفا

کر تم سے بھی وہ کیا وفا رہا

بند نمبر 1نظم

​تیری مسکراہٹ یہ کہتی ہے

تیرا دل کبھی بھی رویا نہیں

​کسی کی خاطر نہ تو فنا ہوا

ختم تمہارے لیے کوئی ہویا نہیں

بند نمبر 2نظم

​تمہاری آرزو ہے یہ کہہ رہی

تمہاری جستجو سے معلوم ہے

​غم تجھے کوئی ملا نہیں

علی تو تبھی تو اتنا معصوم ہے

بند نمبر 3نظم

​یہ بتا رہی ہیں تیری خاموشیاں

ہے اب غم تجھے کوئی مل گیا

​تھا ناآشنا تو جس درد سے

کیا تیرے پہلو سے بھی دل گیا

بند نمبر 4نظم

​نہ کہا تھا تجھے کہ یہ میٹھا زہر ہے

پھر بھی تو نے ذائقہ چکھ لیا

​دل اپنا تو گنوا بیٹھے ہو پہلو سے

دل کیا اس کا بھی پہلو میں رکھ لیا

بند نمبر 5نظم

​اب گھبرا رہا، ہے پچھتا رہا

دل ہی دل میں خود کو سمجھا رہا

​ہے علم مجھے کہ تو ہے باوفا

کر تم سے بھی وہ کیا وفا رہا

محمد علی (ڈھلوں سرگودھیا)

محمد علی (ڈھلوں)

سرگودھا، پنجاب
شاعر، قانونی محقق و سرگودھا کے معاصر ادبی مکتبہ کے روشن نمائندہ قلم کار۔
CRITICAL APPRECIATION & METRICS

فکری تجزیہ اور بحر و اوزان کی لطافت

CATALOG REFCANON-NAZM-22
EDITION TYPEاشاعتِ عام
CURATED CONNECTIONS

ہم آہنگ کلام و منتخب اشعار

کتب خانہ دیکھیں
متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ