CANON-NAZM-14 • اشاعتِ عام
نظمیںسرگودھا ایڈیشن

نظم نمبر :14

شاعر: محمد علی • ڈھلوں سرگودھیاCatalogue Reference: CANON-NAZM-14
شعر 1شعرِ غزل

​یہ میرے الفاظ کی سرعام بے حرمتی ہے علی

کہ کسی کی دہلیز پہ جاکر ہم اپنے اشعار سنائیں

شعر 2شعرِ غزل

جو مجھے چھوڑ گئے ماضی میں برے حالات دیکھ کر

زیادتی تو واضح ہے ان کی پر کیوں ان کے کردار سنائیں

شعر 3شعرِ غزل

جن طبیبوں کے معائنوں کا طلبگار تھا یہ مریض

مجھے ملے تو باعثِ وبا کیسے اصل میں بیمار سنائیں

شعر 4شعرِ غزل

الفاظ نہیں ملتے تھے ہمیں بغیر ان کی زیارت کے

دید کی خاطر کبھی غمگیں کبھی حسین کیسے انتظار سنائیں

شعر 5شعرِ غزل

ہمارے دل کے ٹکڑے ہوتے تھے بغیر تلوار کی دھار سے

انہیں کے تلخ لہجوں سے کیسے وہ معجب آسار سنائیں

شعر 6شعرِ غزل

وقت تھا ہم بیٹھتے تھے محبوب کے ساتھ سرگوشی میں

حسیں لمحوں کی یادیں کیسے کیے ان سے پیار سنائیں

شعر 7شعرِ غزل

​اگر تم متجسس ہو ہمارے دیوان کی مختلف اغزال سے

جتنی بھی لکھیں دکھ میں لکھیں بیتے ساتھ ان احوال کے

شعر 8شعرِ غزل

تو ہم داعی ہیں ان کے ہماری دہلیز پر وہ آئیں

عاجزی کا لبادہ اوڑھ کر تنہائی میں تشریف لائیں

شعر 9شعرِ غزل

خاموشیوں کی گہرائی میں بیٹھ کر اپنے قدیم آثار سنائیں

جن حقائق سے ہو تم معترض واضح کرکے تمہیں سنائیں

شعر 10شعرِ غزل

جن پہاڑوں کی بلندی نہ ماپ سکا کوئی فرنگی

اپنے ساتھ کیے مظالم غموں کے پہاڑ دکھائیں۔

بند نمبر 1نظم

​یہ میرے الفاظ کی سرعام بے حرمتی ہے علی

کہ کسی کی دہلیز پہ جاکر ہم اپنے اشعار سنائیں

جو مجھے چھوڑ گئے ماضی میں برے حالات دیکھ کر

زیادتی تو واضح ہے ان کی پر کیوں ان کے کردار سنائیں

بند نمبر 2نظم

جن طبیبوں کے معائنوں کا طلبگار تھا یہ مریض

مجھے ملے تو باعثِ وبا کیسے اصل میں بیمار سنائیں

الفاظ نہیں ملتے تھے ہمیں بغیر ان کی زیارت کے

دید کی خاطر کبھی غمگیں کبھی حسین کیسے انتظار سنائیں

بند نمبر 3نظم

ہمارے دل کے ٹکڑے ہوتے تھے بغیر تلوار کی دھار سے

انہیں کے تلخ لہجوں سے کیسے وہ معجب آسار سنائیں

وقت تھا ہم بیٹھتے تھے محبوب کے ساتھ سرگوشی میں

حسیں لمحوں کی یادیں کیسے کیے ان سے پیار سنائیں

بند نمبر 4نظم

​اگر تم متجسس ہو ہمارے دیوان کی مختلف اغزال سے

جتنی بھی لکھیں دکھ میں لکھیں بیتے ساتھ ان احوال کے

تو ہم داعی ہیں ان کے ہماری دہلیز پر وہ آئیں

عاجزی کا لبادہ اوڑھ کر تنہائی میں تشریف لائیں

بند نمبر 5نظم

خاموشیوں کی گہرائی میں بیٹھ کر اپنے قدیم آثار سنائیں

جن حقائق سے ہو تم معترض واضح کرکے تمہیں سنائیں

جن پہاڑوں کی بلندی نہ ماپ سکا کوئی فرنگی

اپنے ساتھ کیے مظالم غموں کے پہاڑ دکھائیں۔

محمد علی (ڈھلوں سرگودھیا)

محمد علی (ڈھلوں)

سرگودھا، پنجاب
شاعر، قانونی محقق و سرگودھا کے معاصر ادبی مکتبہ کے روشن نمائندہ قلم کار۔
CRITICAL APPRECIATION & METRICS

فکری تجزیہ اور بحر و اوزان کی لطافت

CATALOG REFCANON-NAZM-14
EDITION TYPEاشاعتِ عام
CURATED CONNECTIONS

ہم آہنگ کلام و منتخب اشعار

کتب خانہ دیکھیں
متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ