حب کی آنکھ سے انہیں کبھی دیکھا ہی نہیں
وہ یوں ہی ہمیں محب ہونے الزام دیتے ہیں

اردو شاعری اور فکری محفوظات
حب کی آنکھ سے انہیں کبھی دیکھا ہی نہیں
وہ یوں ہی ہمیں محب ہونے الزام دیتے ہیں
بہن کے سوا انہیں کبھی کچھ سمجھا ہی نہیں
مطیع ہوکر قلب کا ہمیں محبوب کا نام دیتے ہیں
میں تو وہ گدھا ہوں جو رہتا نہیں کسی فرد کا پابند
ایسے ہی وہ ہمیں مرضِ عشق کی لگام دیتے ہیں
جن کے مقدر میں ہو علی ہر فرد کی حقارت کی آنکھ
علی ہم انہیں کو تو اس دار میں اعلیٰ مقام دیتے ہیں
حب کی آنکھ سے انہیں کبھی دیکھا ہی نہیں
وہ یوں ہی ہمیں محب ہونے الزام دیتے ہیں
بہن کے سوا انہیں کبھی کچھ سمجھا ہی نہیں
مطیع ہوکر قلب کا ہمیں محبوب کا نام دیتے ہیں
میں تو وہ گدھا ہوں جو رہتا نہیں کسی فرد کا پابند
ایسے ہی وہ ہمیں مرضِ عشق کی لگام دیتے ہیں
جن کے مقدر میں ہو علی ہر فرد کی حقارت کی آنکھ
علی ہم انہیں کو تو اس دار میں اعلیٰ مقام دیتے ہیں

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ