شعر 1شعرِ غزل
اس جہاں میں محض ہمیں نفرت ملی
خاص کر محبوب سے اس کی کثرت ملی

اردو شاعری اور فکری محفوظات
اس جہاں میں محض ہمیں نفرت ملی
خاص کر محبوب سے اس کی کثرت ملی
ہر کام کیا ہم نے جس سے بہل جائیں وہ
ہر تکمیل کے بعد مزید ان سے حسرت ملی
ہم نے کہا رکھ لیں ہمیں سگ ہی سمجھ کر
مگر ہمیں چھوڑ کر ہی ان کو مسرت ملی
اس جہاں میں محض ہمیں نفرت ملی
خاص کر محبوب سے اس کی کثرت ملی
ہر کام کیا ہم نے جس سے بہل جائیں وہ
ہر تکمیل کے بعد مزید ان سے حسرت ملی
ہم نے کہا رکھ لیں ہمیں سگ ہی سمجھ کر
مگر ہمیں چھوڑ کر ہی ان کو مسرت ملی

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ