CANON-NAZM-39 • اشاعتِ عام
نظمیںسرگودھا ایڈیشن

نظم نمبر 39

شاعر: محمد علی • ڈھلوں سرگودھیاCatalogue Reference: CANON-NAZM-39
شعر 1شعرِ غزل

(قلم توڑ دیا)

​جس قلم سے لکھا تھا نام تیرا وہ قلم ہی ہم نے توڑ دیا

شعر 2شعرِ غزل

جس رستہ سے وہ گزرتی تھی اس پر چلنا بھی چھوڑ دیا

بعد میں اس کی یادوں نے دکھی آنکھوں کی فریادوں نے

شعر 3شعرِ غزل

بڑا غضب کیا میرے خوابوں نے درد دیا اس کی یادوں نے

اس کی ان پرانی آوازوں نے سب سے پہلے کہے الفاظوں

شعر 4شعرِ غزل

دل نے دل کو سراہ دیا عشق میں جیتے اعزازوں نے

ایسے مجھ پر ستم کیا میرے ہر عضو پر ظلم کیا

شعر 5شعرِ غزل

پھر بعد میں اک راز سے اک خط تھا اس نے جھاڑ دیا

میں نے آنسوؤں کو پونچھ کر اسے نہ پڑھا بلکہ پھاڑ دیا

شعر 6شعرِ غزل

اور وہ جو قلم تھا ہم نے توڑ دیا

پھٹے رقعے کے ساتھ ہی موڑ دیا

بند نمبر 1نظم

(قلم توڑ دیا)

​جس قلم سے لکھا تھا نام تیرا وہ قلم ہی ہم نے توڑ دیا

جس رستہ سے وہ گزرتی تھی اس پر چلنا بھی چھوڑ دیا

بعد میں اس کی یادوں نے دکھی آنکھوں کی فریادوں نے

بند نمبر 2نظم

بڑا غضب کیا میرے خوابوں نے درد دیا اس کی یادوں نے

اس کی ان پرانی آوازوں نے سب سے پہلے کہے الفاظوں

دل نے دل کو سراہ دیا عشق میں جیتے اعزازوں نے

ایسے مجھ پر ستم کیا میرے ہر عضو پر ظلم کیا

بند نمبر 3نظم

پھر بعد میں اک راز سے اک خط تھا اس نے جھاڑ دیا

میں نے آنسوؤں کو پونچھ کر اسے نہ پڑھا بلکہ پھاڑ دیا

اور وہ جو قلم تھا ہم نے توڑ دیا

پھٹے رقعے کے ساتھ ہی موڑ دیا

محمد علی (ڈھلوں سرگودھیا)

محمد علی (ڈھلوں)

سرگودھا، پنجاب
شاعر، قانونی محقق و سرگودھا کے معاصر ادبی مکتبہ کے روشن نمائندہ قلم کار۔
CRITICAL APPRECIATION & METRICS

فکری تجزیہ اور بحر و اوزان کی لطافت

CATALOG REFCANON-NAZM-39
EDITION TYPEاشاعتِ عام
CURATED CONNECTIONS

ہم آہنگ کلام و منتخب اشعار

کتب خانہ دیکھیں
متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ