ہے تقاضا روٹھنے والوں کا کہ اٹھائے جائیں نکھرے
روٹھے ہیں ہم بھی اس لیے کہ ہمیں منایا جائے۔

اردو شاعری اور فکری محفوظات
ہے تقاضا روٹھنے والوں کا کہ اٹھائے جائیں نکھرے
روٹھے ہیں ہم بھی اس لیے کہ ہمیں منایا جائے۔
دعویِٰ حب جو رکھتے ہیں ہم نے سوچا کیوں نہ
اک بار ان حب داروں کو بھی آزمایا جائے۔
اک عمر گزری ہماری بھی روٹھوں کو منانے میں
موقع ملا ہے اب کیوں نہ اپنوں کو ستایا جائے۔
بھرم ہو جاتے ہیں شکستہ، شکستہ آئینے کی طرح
محب! جب اٹھوانے والے کا نکھرا نہ اٹھایا جائے
کاٹی ہیں ہجر میں رو کر روز و شب ہم نے
نہیں سمجھو گے جب تک تمہیں نہ رولایا جائے۔
تم جو کہتی ہو بتاؤ غم اپنے میں ہمدرد ہوں تیری
کیا ہمدرد ہوتا ہے وہ جسے خود غم بتایا جائے
غنیمت سمجھتے تھے ہم تو اک نظرِ محبوب
تیرا بڑا دعویٰ ہے کہ تمہیں گلے سے لگایا جائے
علی اذیت تو مقدر ہے ہر عاشق کی بخدا سن لو
تھک گئے ہو تو تمہیں اپنا قصہ نہ سنایا جائے؟
ہے تقاضا روٹھنے والوں کا کہ اٹھائے جائیں نکھرے
روٹھے ہیں ہم بھی اس لیے کہ ہمیں منایا جائے۔
دعویِٰ حب جو رکھتے ہیں ہم نے سوچا کیوں نہ
اک بار ان حب داروں کو بھی آزمایا جائے۔
اک عمر گزری ہماری بھی روٹھوں کو منانے میں
موقع ملا ہے اب کیوں نہ اپنوں کو ستایا جائے۔
بھرم ہو جاتے ہیں شکستہ، شکستہ آئینے کی طرح
محب! جب اٹھوانے والے کا نکھرا نہ اٹھایا جائے
کاٹی ہیں ہجر میں رو کر روز و شب ہم نے
نہیں سمجھو گے جب تک تمہیں نہ رولایا جائے۔
تم جو کہتی ہو بتاؤ غم اپنے میں ہمدرد ہوں تیری
کیا ہمدرد ہوتا ہے وہ جسے خود غم بتایا جائے
غنیمت سمجھتے تھے ہم تو اک نظرِ محبوب
تیرا بڑا دعویٰ ہے کہ تمہیں گلے سے لگایا جائے
علی اذیت تو مقدر ہے ہر عاشق کی بخدا سن لو
تھک گئے ہو تو تمہیں اپنا قصہ نہ سنایا جائے؟

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ