CANON-NAZM-36 • اشاعتِ عام
نظمیںسرگودھا ایڈیشن

نظم نمبر 36 (دعویِٰ حب اور تقاضے)

شاعر: محمد علی • ڈھلوں سرگودھیاCatalogue Reference: CANON-NAZM-36
شعر 1شعرِ غزل

​ہے تقاضا روٹھنے والوں کا کہ اٹھائے جائیں نکھرے

روٹھے ہیں ہم بھی اس لیے کہ ہمیں منایا جائے۔

شعر 2شعرِ غزل

دعویِٰ حب جو رکھتے ہیں ہم نے سوچا کیوں نہ

اک بار ان حب داروں کو بھی آزمایا جائے۔

شعر 3شعرِ غزل

اک عمر گزری ہماری بھی روٹھوں کو منانے میں

موقع ملا ہے اب کیوں نہ اپنوں کو ستایا جائے۔

شعر 4شعرِ غزل

بھرم ہو جاتے ہیں شکستہ، شکستہ آئینے کی طرح

محب! جب اٹھوانے والے کا نکھرا نہ اٹھایا جائے

شعر 5شعرِ غزل

کاٹی ہیں ہجر میں رو کر روز و شب ہم نے

نہیں سمجھو گے جب تک تمہیں نہ رولایا جائے۔

شعر 6شعرِ غزل

تم جو کہتی ہو بتاؤ غم اپنے میں ہمدرد ہوں تیری

کیا ہمدرد ہوتا ہے وہ جسے خود غم بتایا جائے

شعر 7شعرِ غزل

غنیمت سمجھتے تھے ہم تو اک نظرِ محبوب

تیرا بڑا دعویٰ ہے کہ تمہیں گلے سے لگایا جائے

شعر 8شعرِ غزل

علی اذیت تو مقدر ہے ہر عاشق کی بخدا سن لو

تھک گئے ہو تو تمہیں اپنا قصہ نہ سنایا جائے؟

بند نمبر 1نظم

​ہے تقاضا روٹھنے والوں کا کہ اٹھائے جائیں نکھرے

روٹھے ہیں ہم بھی اس لیے کہ ہمیں منایا جائے۔

دعویِٰ حب جو رکھتے ہیں ہم نے سوچا کیوں نہ

اک بار ان حب داروں کو بھی آزمایا جائے۔

بند نمبر 2نظم

اک عمر گزری ہماری بھی روٹھوں کو منانے میں

موقع ملا ہے اب کیوں نہ اپنوں کو ستایا جائے۔

بھرم ہو جاتے ہیں شکستہ، شکستہ آئینے کی طرح

محب! جب اٹھوانے والے کا نکھرا نہ اٹھایا جائے

بند نمبر 3نظم

کاٹی ہیں ہجر میں رو کر روز و شب ہم نے

نہیں سمجھو گے جب تک تمہیں نہ رولایا جائے۔

تم جو کہتی ہو بتاؤ غم اپنے میں ہمدرد ہوں تیری

کیا ہمدرد ہوتا ہے وہ جسے خود غم بتایا جائے

بند نمبر 4نظم

غنیمت سمجھتے تھے ہم تو اک نظرِ محبوب

تیرا بڑا دعویٰ ہے کہ تمہیں گلے سے لگایا جائے

علی اذیت تو مقدر ہے ہر عاشق کی بخدا سن لو

تھک گئے ہو تو تمہیں اپنا قصہ نہ سنایا جائے؟

محمد علی (ڈھلوں سرگودھیا)

محمد علی (ڈھلوں)

سرگودھا، پنجاب
شاعر، قانونی محقق و سرگودھا کے معاصر ادبی مکتبہ کے روشن نمائندہ قلم کار۔
CRITICAL APPRECIATION & METRICS

فکری تجزیہ اور بحر و اوزان کی لطافت

CATALOG REFCANON-NAZM-36
EDITION TYPEاشاعتِ عام
CURATED CONNECTIONS

ہم آہنگ کلام و منتخب اشعار

کتب خانہ دیکھیں
متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ