شعر 1شعرِ غزل
تو اس حجاب کے پیچھے کیا ہوگا
اگر اتنی خوبصورت آپ کی باتیں ہیں

اردو شاعری اور فکری محفوظات
تو اس حجاب کے پیچھے کیا ہوگا
اگر اتنی خوبصورت آپ کی باتیں ہیں
تو اس نقاب کے پیچھے کیا ہوگا
ہم نے اک سوال کیا تھا کسی غرض سے
علی اس کے جواب کے پیچھے کیا ہوگا۔
جس کو اتنی دیر سے نہ ہم اٹھا سکے
علی اس راز کے پیچھے کیا ہوگا
تم جو گنگناتی ہو کبھی ترنم سے
متجسس الفاظ کے پیچھے کیا ہوگا
تو اس حجاب کے پیچھے کیا ہوگا
اگر اتنی خوبصورت آپ کی باتیں ہیں
تو اس نقاب کے پیچھے کیا ہوگا
ہم نے اک سوال کیا تھا کسی غرض سے
علی اس کے جواب کے پیچھے کیا ہوگا۔
جس کو اتنی دیر سے نہ ہم اٹھا سکے
علی اس راز کے پیچھے کیا ہوگا
تم جو گنگناتی ہو کبھی ترنم سے
متجسس الفاظ کے پیچھے کیا ہوگا

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ