شعر 1شعرِ غزل
ستم گروں کے ستموں سے نہ گھبرایا کرو
ہم جو ہیں آپ ہمیں سارے غم سنایا کرو

اردو شاعری اور فکری محفوظات
ستم گروں کے ستموں سے نہ گھبرایا کرو
ہم جو ہیں آپ ہمیں سارے غم سنایا کرو

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ